登入
登入
登入
选择语言

Tazkir ul Quran 经注: Yusuf 阿雅 92

12:92
قال لا تثريب عليكم اليوم يغفر الله لكم وهو ارحم الراحمين ٩٢
قَالَ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ ٱلْيَوْمَ ۖ يَغْفِرُ ٱللَّهُ لَكُمْ ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ ٩٢
قَالَﲞ
لَاﲟ
تَثۡرِيبَﲠ
عَلَيۡكُمُﲡ
ٱلۡيَوۡمَۖﲢﲣ
يَغۡفِرُﲤ
ٱللَّهُﲥ
لَكُمۡۖﲦﲧ
وَهُوَﲨ
أَرۡحَمُﲩ
ٱلرَّٰحِمِينَﲪ
٩٢ﲫ
他说:今天对你们毫无谴责,但愿真主饶恕你们。他是最慈爱的。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
12:91至12:93节的经注

جب حقیقت کھل گئی تو بھائیوں نے حضرت یوسف کی بڑائی کو تسلیم کرتے ہوئے کھلے طور پر اپنی غلطی کا اقرار کرلیا۔دوسری طرف حضرت یوسف نے بھی اس عالی ظرفی کا ثبوت دیا جو ایک سچے خدا پرست کو ایسے موقع پر دینا چاهيے۔ انھوںنے اپنے بھائیوں کو کوئی ملامت نہیں کی۔ انھوںنے ماضی کے تلخ واقعات کو اچانک بھلا دیا اور بھائیوں سے دوبارہ برادرانہ تعلقات استوار کر لیے۔

اِس واقعہ میں انفرادی نصرت کے ساتھ اجتماعی نصرت کی مثال بھی موجود ہے۔ اسی کے ذریعہ وہ حالات پیدا ہوئے کہ بنی اسرائیل فلسطین سے نکل کر مصر پہنچیں اور وہاں عزت اور خوش حالی کا مقام حاصل کریں۔ چنانچہ حضرت یوسف کے زمانہ میں حضرت یعقوب کا خاندان مصر منتقل ہوگیا اور تقریباً پانچ سو سال تک وہاںعزت کے ساتھ رہا۔ بائبل کے بیان کے مطابق سب افراد خاندان جو اس موقع پر مصر گئے ان کی تعداد 67 تھی۔