登入
登入
登入
选择语言

Tazkir ul Quran 经注: Yusuf 阿雅 44

12:44
قالوا اضغاث احلام وما نحن بتاويل الاحلام بعالمين ٤٤
قَالُوٓا۟ أَضْغَـٰثُ أَحْلَـٰمٍۢ ۖ وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ ٱلْأَحْلَـٰمِ بِعَـٰلِمِينَ ٤٤
قَالُوٓاْﱁ
أَضۡغَٰثُﱂ
أَحۡلَٰمٖۖﱃﱄ
وَمَاﱅ
نَحۡنُﱆ
بِتَأۡوِيلِﱇ
ٱلۡأَحۡلَٰمِﱈ
بِعَٰلِمِينَﱉ
٤٤ﱊ
他们说:这是一个噩梦,而且我们不会圆梦。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
12:43至12:45节的经注

مصر کا بادشاہ اگر چہ مشرک اور شرابی تھا، مگر خدا کی طرف سے اس کو مستقبل کے بارے میں ایک سچا خواب دکھایا گیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خدا حق کے داعیوں کی مدد کن کن طریقوں سے کرتاہے۔ ان میں سے ایک طریقہ یہ ہے کہ فریق ثانی کو کوئی ایسا خواب دکھایا جائے جس سے اس کے ذہن پر داعی کی عظمت اور اہمیت قائم ہو اور اس کا دل نرم ہو کر داعی کے لیے نئے راستے کھل جائیں۔

بادشاہ کے ساقی نے جب بادشاہ کا خواب سنا اس وقت اس کو قید خانہ کا ماجرا یاد آیا۔ اس نے بادشاہ اور درباریوں کے سامنے اپنا ذاتی تجربہ بتایا کہ کس طرح یوسف کی بتائی ہوئی خواب کی تعبیر دو قیدیوں کے حق میں لفظ بلفظ صحیح ثابت ہوئی۔ اس کے بعد وہ بادشاہ سے اجازت لے کر قید خانہ پہنچا تاکہ یوسف سے بادشاہ کے خواب کی تعبیر دریافت کرے۔

حضرت یوسف کی اسی حیثیت کے تعارف سے ان کے لیے قید خانہ سے باہر آنے کا راستہ کھلا خدا ایسا کرسکتا تھا کہ رہائی کے بعد حضرت یوسف کو مزید قید خانہ میں نہ رہنے دے۔ وہ ساقی کو محل کے اندر پہنچتے ہی یاد دلا سکتا تھا کہ وہ وعدہ کے مطابق بادشاہ کے سامنے یوسف کا ذکر کرے۔ مگر خدا کا ہر کام اپنے مقرر وقت پر ہوتا ہے۔ وقت سے پہلے کوئی کام کرنا خدا کا طریقہ نہیں۔