登入
登入
登入
选择语言

Bayan ul Quran 经注: Yusuf 阿雅 11

12:11
قالوا يا ابانا ما لك لا تامنا على يوسف وانا له لناصحون ١١
قَالُوا۟ يَـٰٓأَبَانَا مَا لَكَ لَا تَأْمَ۫نَّا عَلَىٰ يُوسُفَ وَإِنَّا لَهُۥ لَنَـٰصِحُونَ ١١
قَالُواْﲦ
يَٰٓأَبَانَاﲧ
مَاﲨ
لَكَﲩ
لَاﲪ
تَأۡمَ۬نَّاﲫ
عَلَىٰﲬ
يُوسُفَﲭ
وَإِنَّاﲮ
لَهُۥﲯ
لَنَٰصِحُونَﲰ
١١ﲱ
他们说:我们的父亲啊!你对于优素福怎么不信任我们呢?我们对于他确是怀好意的。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
12:10至12:11节的经注

آیت 10 قَالَ قَاۗىِٕلٌ مِّنْهُمْ لَا تَـقْتُلُوْا يُوْسُفَ یہ شریف النفس انسان ان کے سب سے بڑے بھائی تھے جنہوں نے یہ مشورہ دیا۔ ان کا نام یہودا تھا اور انہی کے نام پر لفظ ”یہودی“ بنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ تو اس سے پیچھا چھڑانے کا ہے لہٰذا ضروری نہیں کہ قتل جیسا گناہ کر کے ہی یہ مقصد حاصل کیا جائے اس کے لیے کوئی دوسرا طریقہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے۔وَاَلْقُوْهُ فِيْ غَيٰبَتِ الْجُبِّ يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّـيَّارَةِ پرانے زمانے کے کنویں کی ایک خاص قسم کو باؤلی کہا جاتا تھا اس کا منہ کھلا ہوتا تھا لیکن گہرائی میں یہ تدریجاً تنگ ہوتا جاتا تھا۔ پانی کی سطح کے قریب اس کی دیوار میں طاقچے سے بنائے جاتے تھے۔ اس طرح کی باؤلیاں پرانے زمانے میں قافلوں کے راستوں پر بنائی جاتی تھیں۔ چناچہ اس مشورے پر عمل کی صورت میں قوی امکان تھا کہ کسی قافلے کا ادھر سے گزر ہوگا اور قافلے والے یوسف کو باؤلی سے نکال کر اپنے ساتھ لے جائیں گے۔ بڑے بھائی کے اس مشورے کا مقصد بظاہر یہ تھا کہ اس طرح کم از کم یوسف کی جان بچ جائے گی اور ہم بھی اس کے خون سے ہاتھ رنگنے کے جرم کے مرتکب نہیں ہوں گے۔ اِنْ کُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ جب نو بھائی اس بات پر پوری طرح تلُ گئے کہ یوسف سے بہرحال چھٹکارا حاصل کرنا ہے تو دسواں بھائی ان کو اس حرکت سے بالکل منع تو نہیں کرسکا لیکن اس نے کوشش کی کہ کم از کم وہ لوگ یوسف کو قتل کرنے سے باز رہیں۔