登入
登入
登入
选择语言

经注: Yunus 10:95

10:95
ولا تكونن من الذين كذبوا بايات الله فتكون من الخاسرين ٩٥
وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِ ٱللَّهِ فَتَكُونَ مِنَ ٱلْخَـٰسِرِينَ ٩٥
وَلَا
تَكُونَنَّ
مِنَ
ٱلَّذِينَ
كَذَّبُواْ
بِـَٔايَٰتِ
ٱللَّهِ
فَتَكُونَ
مِنَ
ٱلۡخَٰسِرِينَ
٩٥
切莫居于否认真主的迹象者的行列,以致你入于亏折者之中。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
10:94至10:97节的经注
ٹھوس دلائل کے باوجود انکار قابل مذمت ہے ٭٭

جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ مجھے کچھ شک نہ مجھے کسی سے پوچھنے کی ضرورت ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17907:مرسل] ‏۔

پس اس آیت سے مطلب صرف اتنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ایمان کی مضبوطی کی جائے اور ان سے بیان کیا جائے کہ اگلی الٰہامی کتابوں میں بھی ان کے نبی کی صفتیں موجود ہیں، خود اہل کتاب بھی بخوبی واقف ہیں۔

جیسے «الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ» [7-الأعراف:157] ‏ الخ میں ہے۔

ان لوگوں پر تعجب اور افسوس ہے ان کی کتابوں میں اس نبی آخر الزمان کی تعریف و توصیف اور جان پہچان ہونے کے باوجود بھی ان کتابوں کے احکام کا خلط ملط کرتے ہیں اور تحریف و تبدیل کر کے بات بدل دیتے ہیں اور دلیل سامنے ہونے کے باوجود انکاری رہتے ہیں۔ شک و شبہ کی ممانعت کے بعد آیات رب کی تکذیب کی ممانعت ہوئی۔ پھر بدقسمت لوگوں کے ایمان سے ناامیدی دلائی گئی۔ جب تک کہ وہ عذاب نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے۔ یہ تو اس وقت ایمان لائیں گے جس وقت ایمان لانا بے سود ہوگا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے لیے اور فرعونیوں کے لیے یہی بد دعا کی تھی «رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [10-یونس:88] ‏ ” اے ہمارے رب! ان کے مالوں کو نیست و نابود کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے سو یہ ایمان نہ لانے پائیں یہاں تک کہ درد ناک عذاب کو دیکھ لیں“۔

«وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ» [6-الأنعام:111] ‏ ” ان کی جہالت اس درجے پر پہنچ چکی ہے کہ بالفرض ہم اپنے فرشتوں کو ان پر اتاریں، مردے ان سے بولیں ہر پوشیدہ چیز سامنے آ جائے جب بھی انہیں ایمان نصیب نہیں ہو گا ہاں مرضی مولیٰ اور چیز ہے “۔

صفحہ نمبر3772