登入
登入
登入
选择语言

Bayan ul Quran 经注: Al-Anbiya 阿雅 4

21:4
قال ربي يعلم القول في السماء والارض وهو السميع العليم ٤
قَالَ رَبِّى يَعْلَمُ ٱلْقَوْلَ فِى ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ ۖ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ ٤
قَالَﱧ
رَبِّيﱨ
يَعۡلَمُﱩ
ٱلۡقَوۡلَﱪ
فِيﱫ
ٱلسَّمَآءِﱬ
وَٱلۡأَرۡضِۖﱭﱮ
وَهُوَﱯ
ٱلسَّمِيعُﱰ
ٱلۡعَلِيمُﱱ
٤ﱲ
他说:我的主知道在天上和地上所说的话,他确是全聪的,确是全知的。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
21:3至21:4节的经注

آیت 3 لَاہِیَۃً قُلُوْبُہُمْ ط ”ان کا غیر سنجیدہ رویہ اس حد تک ان کے دلوں میں گھر کر گیا ہے کہ انہوں نے زندگی کو بھی ایک کھیل ہی سمجھ رکھا ہے۔ہَلْ ہٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ ج ”رسول اللہ ﷺ سے کلام اللہ سن کر اگر ان کا کوئی ساتھی متاثر ہوتا تو اسے الگ لے جا کر بڑے ناصحانہ انداز میں سمجھاتے کہ ارے تم خواہ مخواہ اپنے جیسے ایک انسان کو اللہ کا رسول اور اس کی باتوں کو اللہ کا کلام سمجھ رہے ہو۔ اس کی باتوں پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ ”تم جانتے بھی ہو کہ یہ کلام وغیرہ سب جادو کا کمال ہے۔ تو کیا تم جانتے بوجھتے ہوئے اس کا شکار ہونے جا رہے ہو ؟ ان کی اس طرح کی سرگرمیوں کی خبریں حضور ﷺ تک بھی پہنچتی تھیں۔ آپ ﷺ کو یقیناً اس سے بہت صدمہ پہنچتا ہوگا کہ اگر کوئی اللہ کا بندہ ہدایت قبول کرنے پر آمادہ ہوا تھا تو اس کو پھر ورغلا کر بھٹکا دیا گیا ہے۔ چناچہ آپ ﷺ ان کے آپس کے شیطانی مشوروں کا سنتے تو یوں فرماتے :