登入
登入
登入
选择语言

Tazkir ul Quran 经注: Al-Anbiya 阿雅 16

21:16
وما خلقنا السماء والارض وما بينهما لاعبين ١٦
وَمَا خَلَقْنَا ٱلسَّمَآءَ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَـٰعِبِينَ ١٦
وَمَاﱮ
خَلَقۡنَاﱯ
ٱلسَّمَآءَﱰ
وَٱلۡأَرۡضَﱱ
وَمَاﱲ
بَيۡنَهُمَاﱳ
لَٰعِبِينَﱴ
١٦ﱵ
我未曾以游戏的态度创造天地万物;
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
21:16至21:18节的经注

جو لوگ خدا کی دعوت کے بارے میں سنجیدہ نہ ہوں وہ گویا موجودہ دنیا کو ایک قسم کا خدائی کھلونا سمجھتے ہیں۔ جس کا وقتی تفریح کے سوا اور کوئی مقصد نہ ہو۔ مگر موجودہ دنیا اپنی بے پناہ حکمت ومعنویت کے ساتھ اپنے خالق کا جو تعارف کراتی ہے اس کے لحاظ سے یہ ناممکن معلوم ہوتا ہے کہ اس کا خالق کوئی ایسا خدا ہو جس نے اس دنیا کو محض کھیل کے طورپر بنایا ہو۔

موجودہ دنیا میں انسان جیسی انوکھی مخلوق ہے جس کی فطرت میں حق وباطل کی تمیز پائی جاتی ہے۔ دنیا میں ایسی مخلوق کا ہونا جو ایک طریقہ کو حق اور دوسرے طریقہ کو باطل سمجھے اور پھر حق وباطل کے نام پر بار بار مقابلہ پیش آنا ظاہر کرتاہے کہ یہاں کوئی ایسا وقت آنے والا ہے جب کہ آخری طورپر یہ بات کھل جائے کہ فی الواقع حق کیا تھا اور باطل کیا۔ اور پھر جس نے حق کا ساتھ دیا ہو اس کو کامیابی حاصل ہو اور جس نے حق کا ساتھ نہ دیا ہو وہ ناکام کردیا جائے۔ جس دنیا میں ایسا ’’پتھر‘‘ ہو جو ایک شخص کے ’’سر‘‘ کو توڑدے وہاں کیا ایسا حق نہ ہوگا جو باطل کو باطل ثابت کرسکے۔