登入
登入
登入
选择语言

Tazkir ul Quran 经注: Ibrahim 阿雅 3

14:3
الذين يستحبون الحياة الدنيا على الاخرة ويصدون عن سبيل الله ويبغونها عوجا اولايك في ضلال بعيد ٣
ٱلَّذِينَ يَسْتَحِبُّونَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا عَلَى ٱلْـَٔاخِرَةِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ فِى ضَلَـٰلٍۭ بَعِيدٍۢ ٣
ٱلَّذِينَﱴ
يَسۡتَحِبُّونَﱵ
ٱلۡحَيَوٰةَﱶ
ٱلدُّنۡيَاﱷ
عَلَىﱸ
ٱلۡأٓخِرَةِﱹ
وَيَصُدُّونَﱺ
عَنﱻ
سَبِيلِﱼ
ٱللَّهِﱽ
وَيَبۡغُونَهَاﱾ
عِوَجًاۚﱿﲀ
أُوْلَٰٓئِكَﲁ
فِيﲂ
ضَلَٰلِۭﲃ
بَعِيدٖﲄ
٣ﲅ
他们宁要今世,而不要后世,并阻碍真主的大道,而且想在其中寻求偏邪道,这等人是在深深的迷误之中的。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
14:1至14:3节的经注

ایمان یہ ہے کہ آدمی خدا کو ایک ایسی ہستی کی حیثیت سے پالے جو ساری طاقتوں کا مالک ہے اور ساری خوبیوں والا بھی هے۔ ایساواقعہ کسی آدمی کے لیے محض ایک رسمی عقیدہ نہیں ہوتا۔ یہ کسی آدمی کا بے علمی کی تاریکی سے نکل کر علم کی روشنی میں آناہے۔ یہ غیب کے پردے سے گزر کر شہود کے جلوے کو دیکھ لینا ہے۔ یہ دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کا ادراک کرلینا ہے۔ ایمان اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک شعوری یافت ہے، نہ کہ کسی مجموعۂ الفاظ کی بے روح تکرار— خداکی کتاب اس لیے آتی ہے کہ آدمی کو اس شعوری درجہ پر پہنچائے۔

اللہ کے اذن سے ہدایت ملنا، بظاہر ہدایت کے معاملہ کو اللہ کی طرف منسوب کرنا ہے۔ مگر اس ارشاد کا رخ حقیقۃً خودانسان کی طرف ہے۔ ’’اذن‘‘ سے مراد خدا کا وہ مقررہ قانون ہے جو اس نے انسان کی ہدایت وضلالت کے لیے مقرر کیا ہے۔ اس قانون کے مطابق آدمی کی اپنی سنجیدہ طلب واحد شرط ہے جو اس کو ہدایت تک پہنچاتی ہے۔ اس دنیا میں جس شخص کو ہدایت ملتی ہے وہ محض کسی داعی کی داعیانہ کوششوں سے نہیں ملتی بلکہ خدا کے قانون کے تحت ملتی ہے۔ اور خدا کا قانون یہ ہے کہ ہدایت کی نعمت کو صرف وہ شخص پائے گا جو خود ہدایت کا طالب ہو۔ ذاتی طلب کے بغیر کسی کو ہدایت نہیں مل سکتی۔

ہدایت کے راستہ کو خدانے انتہائی حد تک صاف اور روشن بنایا ہے۔ زمین وآسمان میںاس کی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ خدا کی کتاب اس کے حق میں ناقابلِ انکار دلائل فراہم کرتی ہے۔ انسانی فطرت اس کی صداقت کی گواہی دے رہی ہے۔ گویا تمام بہترین قرائن اس کے حق میں جمع ہیں۔ ایسی حالت میں جو لوگ ہدایت کے راستہ کو اختیارنه کریں وہ یقینی طور پر دنیوی مفادکی بنا پر ایسا کررہے ہیں، نہ کہ کسی واقعی سبب کی بنا پر۔ اگر چہ ایسے لوگ اپنی روش کو درست ثابت کرنے کے لیے کچھ ’’دلائل‘‘ بھی پیش کرتے ہیں مگر یہ دلائل صرف سیدھی بات میں ٹیڑھ نکالنے کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ وہ صرف اس لیے ہوتے ہیں کہ لوگوں کی نظر میں اپنے نہ ماننے کا جواز فراہم کریں۔

ایسی حالت میں ہدایت سے محروم صرف وہی شخص رہ سکتا ہے جس کی مفاد پرستی اور دنیوی رغبت نے اس کو بالکل اندھا بہرا بنادیاهو۔