Sign in
Sign in
Sign in
Select Language
12:67
وقال يا بني لا تدخلوا من باب واحد وادخلوا من ابواب متفرقة وما اغني عنكم من الله من شيء ان الحكم الا لله عليه توكلت وعليه فليتوكل المتوكلون ٦٧
وَقَالَ يَـٰبَنِىَّ لَا تَدْخُلُوا۟ مِنۢ بَابٍۢ وَٰحِدٍۢ وَٱدْخُلُوا۟ مِنْ أَبْوَٰبٍۢ مُّتَفَرِّقَةٍۢ ۖ وَمَآ أُغْنِى عَنكُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍ ۖ إِنِ ٱلْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُتَوَكِّلُونَ ٦٧
وَقَالَ
يَٰبَنِيَّ
لَا
تَدۡخُلُواْ
مِنۢ
بَابٖ
وَٰحِدٖ
وَٱدۡخُلُواْ
مِنۡ
أَبۡوَٰبٖ
مُّتَفَرِّقَةٖۖ
وَمَآ
أُغۡنِي
عَنكُم
مِّنَ
ٱللَّهِ
مِن
شَيۡءٍۖ
إِنِ
ٱلۡحُكۡمُ
إِلَّا
لِلَّهِۖ
عَلَيۡهِ
تَوَكَّلۡتُۖ
وَعَلَيۡهِ
فَلۡيَتَوَكَّلِ
ٱلۡمُتَوَكِّلُونَ
٦٧
He then instructed ˹them˺, “O my sons! Do not enter ˹the city˺ all through one gate, but through separate gates.1 I cannot help you against ˹what is destined by˺ Allah in the least. It is only Allah Who decides. In Him I put my trust. And in Him let the faithful put their trust.”
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 12:67 to 12:68
باب

چونکہ اللہ کے نبی نے یعقوب علیہ السلام کو اپنے بچوں پر نظر لگ جانے کا کھٹکا تھا کیونکہ وہ سب اچھے، خوبصورت، تنو مند، طاقتور، مضبوط دیدہ رو نوجوان تھے اس لیے بوقت رخصت ان سے فرماتے ہیں کہ پیارے بچو تم سب شہر کے ایک دروازے سے شہر میں نہ جانا بلکہ مختلف دروازوں سے ایک ایک دو دو کر کے جانا۔ نظر کا لگ جانا حق ہے۔ گھوڑ سوار کو یہ گرا دیتی ہے۔ پھر ساتھ ہی فرماتے ہیں کہ یہ میں جانتا ہوں اور میرا ایمان ہے کہ یہ تدبیر تقدیر میں ہیر پھیر نہیں کر سکتی۔ اللہ کی قضاء کو کوئی شخص کسی تدبیر سے بدل نہیں سکتا۔ اللہ کا چاہا پورا ہو کر ہی رہتا ہے۔ حکم اسی کا چلتا ہے۔ کون ہے جو اس کے ارادے کو بدل سکے؟ اس کے فرمان کو ٹال سکے؟ اس کی قضاء کو لوٹا سکے؟ میرا بھروسہ اسی پر ہے اور مجھ پر ہی کیا موقوف ہے۔ ہر ایک توکل کرنے والے کو اسی پر توکل کرنا چاہیئے۔

چنانچہ بیٹوں نے باپ کی فرماں برداری کی اور اسی طرح کئی ایک دروازوں میں بٹ گئے اور شہر میں پہنچے۔ اس طرح وہ اللہ کی قضاء کو لوٹا نہیں سکتے تھے ہاں یعقوب علیہ السلام نے ایک ظاہری تدبیر پوری کی کہ اس سے وہ نظر بد سے بچ جائیں۔ وہ ذی علم تھے، الہامی علم ان کے پاس تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:250/7] ‏ ہاں اکثر لوگ ان باتوں کو نہیں جانتے۔

صفحہ نمبر4042