Ingia
Ingia
Ingia
Chagua Lugha

Tazkir ul Quran Tafsiri: Yusuf Ayah 38

12:38
واتبعت ملة ابايي ابراهيم واسحاق ويعقوب ما كان لنا ان نشرك بالله من شيء ذالك من فضل الله علينا وعلى الناس ولاكن اكثر الناس لا يشكرون ٣٨
وَٱتَّبَعْتُ مِلَّةَ ءَابَآءِىٓ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْحَـٰقَ وَيَعْقُوبَ ۚ مَا كَانَ لَنَآ أَن نُّشْرِكَ بِٱللَّهِ مِن شَىْءٍۢ ۚ ذَٰلِكَ مِن فَضْلِ ٱللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى ٱلنَّاسِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ ٣٨
وَٱتَّبَعۡتُﱁ
مِلَّةَﱂ
ءَابَآءِيٓﱃ
إِبۡرَٰهِيمَﱄ
وَإِسۡحَٰقَﱅ
وَيَعۡقُوبَۚﱆﱇ
مَاﱈ
كَانَﱉ
لَنَآﱊ
أَنﱋ
نُّشۡرِكَﱌ
بِٱللَّهِﱍ
مِنﱎ
شَيۡءٖۚﱏﱐ
ذَٰلِكَﱑ
مِنﱒ
فَضۡلِﱓ
ٱللَّهِﱔ
عَلَيۡنَاﱕ
وَعَلَىﱖ
ٱلنَّاسِﱗ
وَلَٰكِنَّﱘ
أَكۡثَرَﱙ
ٱلنَّاسِﱚ
لَاﱛ
يَشۡكُرُونَﱜ
٣٨ﱝ
Tafsir
Tabaka
Mafunzo
Tafakari
Majibu
Qiraat
Hadith
Unasoma tafsir ya kundi la aya 12:37 hadi 12:40 kwa Lugha ya Kiingereza

نوجوان قیدیوں نے اپنے خواب کی تعبیر جاننے کے لیے حضرت یوسف سے رجوع کیا۔ انھوں نے جس انداز سے سوال کیا اس سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ آ پ کی شخصیت سے متاثر ہیں۔ اور آپ کی رائے پر اعتماد کرتے ہیں۔ حضرت یوسف جیسے نیک اور بااصول انسان کے ساتھ ایک عرصہ تک رہنے کے بعد ایسا ہونا بالکل فطری تھا۔

حضرت یوسف کے دعوتی جذبے نے فوراً محسوس کرلیا کہ یہ بہترین موقع ہے کہ ان نوجوانوں کو دینِ حق کا پیغام پہنچایا جائے۔ مگر خواب کی تعبیر فوراً بتادینے کے بعد ان کی توجہ آپ کی طرف سے ہٹ جاتی۔ چنانچہ آپ نے حکیمانہ انداز اختیار کیا اور خواب کی تعبیر کو تھوڑی دیر کے لیے مؤخر کردیا۔ اس کے بعد آپ نے توحید پر مختصر تقریر کی۔ اس میں مخاطب کی نفسیات کی رعایت کرتے ہوئے نہایت خوب صورت استدلال کے ساتھ اپنا پیغام انھیں سنادیا۔

درخت، پتھر، ستارے یا ارواح وغیرہ کو جو لوگ پوجتے ہیں اس کا راز یہ ہے کہ وہ بطور خود ان کو مشکل کشا اور حاجت روا جیسے القاب دیتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ واقعۃً وہ مشکل کشا اور حاجت روا ہیں۔ حالاں کہ یہ سب انسان کے اپنے بنائے ہوئے اسم ہیں جن کا مسمی خارج میں کہیں موجود نہیں۔