Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tazkir ul Quran Tafsir: Yusuf Ayah 6

12:6
وكذالك يجتبيك ربك ويعلمك من تاويل الاحاديث ويتم نعمته عليك وعلى ال يعقوب كما اتمها على ابويك من قبل ابراهيم واسحاق ان ربك عليم حكيم ٦
وَكَذَٰلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ وَيُتِمُّ نِعْمَتَهُۥ عَلَيْكَ وَعَلَىٰٓ ءَالِ يَعْقُوبَ كَمَآ أَتَمَّهَا عَلَىٰٓ أَبَوَيْكَ مِن قَبْلُ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْحَـٰقَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ عَلِيمٌ حَكِيمٌۭ ٦
وَكَذَٰلِكَﱒ
يَجۡتَبِيكَﱓ
رَبُّكَﱔ
وَيُعَلِّمُكَﱕ
مِنﱖ
تَأۡوِيلِﱗ
ٱلۡأَحَادِيثِﱘ
وَيُتِمُّﱙ
نِعۡمَتَهُۥﱚ
عَلَيۡكَﱛ
وَعَلَىٰٓﱜ
ءَالِﱝ
يَعۡقُوبَﱞ
كَمَآﱟ
أَتَمَّهَاﱠ
عَلَىٰٓﱡ
أَبَوَيۡكَﱢ
مِنﱣ
قَبۡلُﱤ
إِبۡرَٰهِيمَﱥ
وَإِسۡحَٰقَۚﱦﱧ
إِنَّﱨ
رَبَّكَﱩ
عَلِيمٌﱪ
حَكِيمٞﱫ
٦ﱬ
“(Việc con nhìn thấy những gì trong giấc mơ) như thế, có nghĩa là Thượng Đế của con đã lựa chọn con. Rồi đây Ngài sẽ dạy con cách giải mã giấc mơ và Ngài sẽ hoàn thiện ân huệ của Ngài cho con và cho dòng dõi của Ya’qub giống như Ngài đã hoàn thiện ân huệ của Ngài cho các tổ phụ của con trước đây, Ibrahim và Is-haaq. Thật vậy, Thượng Đế của con là Đấng Hiểu Biết, Đấng Thông Thái.”
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 12:4 đến 12:6

حدیث میں ہے کہ خواب کی تین قسمیں ہیں۔ اپنے دل کی بات، شیطان کا ڈر اوا اور خداکی بشارت۔ عام آدمی کا خواب تینوں میں سے کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ مگر پیغمبر کا خواب ہمیشہ خدا کی بشارت ہوتاہے، کبھی راست انداز میں اور کبھی تمثیلی انداز میں۔

حضرت یوسف کا زمانہ انیسویں صدی قبل مسیح کا زمانہ ہے۔ آپ کے والد حضرت یعقوب فلسطین میں رہتے تھے۔ حضرت یوسف اور ان کے بھائی بن یامین ایک ماں سے تھے اوربقیہ دس بھائی دوسری ماؤں سے۔ اس خواب میں سورج اور چاند سے مراد آپ کے والدین ہیں اور گیارہ ستاروں سے مراد گیارہ بھائی۔ اس میں یہ بشارت تھی کہ حضرت یوسف کو پیغمبری ملے گی اور اسی کے ساتھ یہ خواب آپ کے اس عروج واقتدار کی تمثیل تھا جو بعد کو مصر پہنچ کر آپ کو ملا اور جس کے بعد سارے اہل خاندان مجبور ہوئے کہ وہ آپ کی عظمت کو تسلیم کرلیں۔

حضرت یوسف کے دس سوتیلے بھائی آپ کی شخصیت اور مقبولیت کو دیکھ کر آپ سے حسد رکھتے تھے۔ اس لیے آپ کے والد (حضرت یعقوب) نے خواب سن کر فوراً کہا کہ اپنے بھائیوں سے اس کا ذکر نہ کرنا ورنہ وہ تمھارے اور زیادہ دشمن ہوجائیںگے۔

کسی کی بڑائی دیکھ کر اس کے خلاف جلن پیدا ہونا خالص شیطانی فعل ہے۔ جس شخص کے اندر یہ صفت پائی جائے اس کو اپنے بارے میں توبہ کرنی چاہیے۔ کیوں کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ خداکے فیصلہ پر راضی نہیں۔ وہ شیطان کی ہدایت پر چل رہا ہے، نہ کہ خدا کی ہدایت پر۔

یہاںاتمام نعمت کا لفظ حضرت یوسف کے لیے بھی بولا گیا ہے جن کو حکومت حاصل ہوئی اور حضرت ابراہیم کے لیے بھی جن کو کوئی حکومت نہیں ملی۔ پھر دونوں کے درمیان وہ مشترک چیز کیا تھی جس کو اتمام نعمت کہاگیا ہے۔ وہ نبوت تھی۔ یعنی خدا کی اس خصوصی ہدایت کی توفیق جو کسی کو آخرت میں اعلیٰ مراتب تک پہنچانے والی ہے۔ خدا کی ہدایت انسان کے اوپر خدا کی نعمتوں کی تکمیل ہے۔ یہ نعمت پیغمبروں کو براہِ راست طور پر ملتی ہے اور عام صالحین کو بالواسطہ طور پر۔