Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Yunus 10:61

10:61
وما تكون في شان وما تتلو منه من قران ولا تعملون من عمل الا كنا عليكم شهودا اذ تفيضون فيه وما يعزب عن ربك من مثقال ذرة في الارض ولا في السماء ولا اصغر من ذالك ولا اكبر الا في كتاب مبين ٦١
وَمَا تَكُونُ فِى شَأْنٍۢ وَمَا تَتْلُوا۟ مِنْهُ مِن قُرْءَانٍۢ وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ ۚ وَمَا يَعْزُبُ عَن رَّبِّكَ مِن مِّثْقَالِ ذَرَّةٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَا فِى ٱلسَّمَآءِ وَلَآ أَصْغَرَ مِن ذَٰلِكَ وَلَآ أَكْبَرَ إِلَّا فِى كِتَـٰبٍۢ مُّبِينٍ ٦١
وَمَا
تَكُونُ
فِي
شَأۡنٖ
وَمَا
تَتۡلُواْ
مِنۡهُ
مِن
قُرۡءَانٖ
وَلَا
تَعۡمَلُونَ
مِنۡ
عَمَلٍ
إِلَّا
كُنَّا
عَلَيۡكُمۡ
شُهُودًا
إِذۡ
تُفِيضُونَ
فِيهِۚ
وَمَا
يَعۡزُبُ
عَن
رَّبِّكَ
مِن
مِّثۡقَالِ
ذَرَّةٖ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
وَلَا
فِي
ٱلسَّمَآءِ
وَلَآ
أَصۡغَرَ
مِن
ذَٰلِكَ
وَلَآ
أَكۡبَرَ
إِلَّا
فِي
كِتَٰبٖ
مُّبِينٍ
٦١
Không một hành động nào của Ngươi (Thiên Sứ Muhammad), không một đoạn Qur’an nào Ngươi xướng đọc và không một hành động nào các ngươi (những người có đức tin) làm mà lại không nằm dưới sự chứng kiến của TA (Allah). Không gì có thể nằm ngoài tầm kiểm soát của Thượng Đế của Ngươi, dù một vật có sức nặng bằng trọng lượng hạt nguyên tử nằm dưới đất hay trong bầu trời hoặc thậm chí nhỏ hơn hay lớn hơn thế thì cũng đều được ghi chép rõ ràng trong Quyển Kinh (Lưu Trữ - Quyển Kinh Mẹ).
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
اللہ تعالٰی سب کچھ جانتا ہے اور دیکھتا ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ عزوجل اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتا ہے کہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام امت کے تمام احوال ہر وقت اللہ تعالیٰ جانتا ہے، ساری مخلوق کے کل کام اس کے علم میں ہیں، اس کے علم سے اور اس کی نگاہ سے آسمان و زمین کا کوئی ذرہ بھی پوشیدہ نہیں۔ سب چھوٹی بڑی چیزیں ظاہر کتاب میں لکھی ہوئی ہیں۔

جیسے فرمان ہے «وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِيْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» [6-الأنعام:59] ‏ ” غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں۔ جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ وہ خشکی و تری کی ہر چیز کا علم رکھتا ہے ہر پتے کے جھڑنے کی اسے خبر ہے۔ زمین کے اندھیروں میں جو دانہ ہو، جو تر و خشک چیز ہو، سب کتاب مبین میں موجود ہے “۔

الغرض درختوں کا ہلنا، جمادات کا ادھر ادھر ہونا، جانداروں کا حرکت کرنا، کوئی چیز روئے زمین کی اور تمام آسمانوں کی ایسی نہیں، جس سے علیم و خبیر اللہ بے خبر ہو۔ فرمان ہے «وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُم مَّا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِن شَيْءٍ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ» [6-الانعام:38] ‏ ایک اور آیت میں ہے کہ «وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّـهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» [11-ھود:6] ‏ زمین کے ہر جاندار کا روزی رساں اللہ تعالیٰ ہے۔ جب کہ درختوں، ذروں جانوروں اور تمام تر و خشک چیزوں کے حال سے اللہ عزوجل واقف ہے بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ بندوں کے اعمال سے وہ بے خبر ہو۔ جنہیں عبادت رب کی بجا آوری کا حکم دیا گیا ہے۔

چنانچہ فرمان ہے «وَتَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ الَّذِي يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ وَتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ» [26-الشعراء:217-219] ‏ ” اس ذی عزت بڑے رحم و کرم والے اللہ پر تو بھروسہ رکھ جو تیرے قیام کی حالت میں تجھے دیکھتا رہتا ہے سجدہ کرنے والوں میں تیرا آنا جانا بھی دیکھ رہا ہے “۔

یہی بیان یہاں ہے کہ ” تم سب ہماری آنکھوں اور کانوں کے سامنے ہو “۔

جبرائیل علیہ السلام نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے احسان کی بابت سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ اللہ کی عبادت اس طرح کر کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے، اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے یقیناً دیکھ ہی رہا ہے ۔ [صحیح بخاری:50] ‏

صفحہ نمبر3725