Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Ya-Sin 36:47

36:47
واذا قيل لهم انفقوا مما رزقكم الله قال الذين كفروا للذين امنوا انطعم من لو يشاء الله اطعمه ان انتم الا في ضلال مبين ٤٧
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ أَنفِقُوا۟ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ قَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَنُطْعِمُ مَن لَّوْ يَشَآءُ ٱللَّهُ أَطْعَمَهُۥٓ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِى ضَلَـٰلٍۢ مُّبِينٍۢ ٤٧
وَإِذَا
قِيلَ
لَهُمۡ
أَنفِقُواْ
مِمَّا
رَزَقَكُمُ
ٱللَّهُ
قَالَ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُواْ
لِلَّذِينَ
ءَامَنُوٓاْ
أَنُطۡعِمُ
مَن
لَّوۡ
يَشَآءُ
ٱللَّهُ
أَطۡعَمَهُۥٓ
إِنۡ
أَنتُمۡ
إِلَّا
فِي
ضَلَٰلٖ
مُّبِينٖ
٤٧
Khi có lời bảo họ: “Các ngươi hãy chi dùng những gì Allah đã ban cấp cho các ngươi (cho con đường chính nghĩa của Ngài).” Những kẻ vô đức tin nói với những người có đức tin: “Lẽ nào chúng tôi phải nuôi ăn những kẻ mà nếu Allah muốn thì chính Ngài đã nuôi họ? Quả thật các người đang trong sự lầm lạc quá rõ ràng.”
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 36:45 đến 36:47
کفار کا تکبر ٭٭

کافروں کی سرکشی نادانی اور عناد تکبر بیان ہو رہا ہے کہ جب ان سے گناہوں سے بچنے کو کہا جاتا ہے کہ جو کر چکے ان پر نادم ہو جاؤ ان سے توبہ کر لو اور آئندہ کے لیے ان سے احتیاط کرو۔ اس سے اللہ تم پر رحم فرمائے گا اور تمہیں اپنے عذابوں سے بچا لے گا۔ تو وہ اس پر کار بند ہونا تو درکنار ایک طرف اور منہ پھلا لیتے ہیں، قرآن نے اس جملے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ آگے جو آیت ہے وہ اس پر صاف طور سے دلالت کرتی ہے۔ اس میں ہے کہ یہی ایک بات کیا؟ ان کی تو عادت ہو گئی ہے کہ اللہ کی ہر بات سے منہ پھیر لیں۔ نہ اس کی توحید کو مانتے ہیں نہ رسولوں کو سچا جانتے ہیں نہ ان میں غور و خوض کی عادت نہ ان میں قبولیت کا مادہ، نہ نفع کو حاصل کرنے کا ملکہ۔

ان کو جب کبھی اللہ کی راہ میں خیرات کرنے کو کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو تمہیں دیا ہے اس میں فقراء مساکین اور محتاجوں کا حصہ بھی ہے۔ تو یہ جواب دیتے ہیں کہ اگر اللہ کا ارادہ ہوتا تو ان غریبوں کو خود ہی دیتا، جب اللہ ہی کا ارادہ انہیں دینے کا نہیں تو ہم اللہ کے ارادے کے خلاف کیوں کریں؟ تم جو ہمیں خیرات کی نصیحت کر رہے ہو اس میں بالکل غلطی پر ہو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ پچھلہ جملہ کفار کی تردید میں اللہ کی طرف سے ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کفار سے فرما رہا ہے کہ تم کھلی گمراہی میں ہو لیکن ان سے یہی اچھا معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی کفار کے جواب کا حصہ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر7380