Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Ya-Sin 36:19

36:19
قالوا طايركم معكم اين ذكرتم بل انتم قوم مسرفون ١٩
قَالُوا۟ طَـٰٓئِرُكُم مَّعَكُمْ ۚ أَئِن ذُكِّرْتُم ۚ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌۭ مُّسْرِفُونَ ١٩
قَالُواْ
طَٰٓئِرُكُم
مَّعَكُمۡ
أَئِن
ذُكِّرۡتُمۚ
بَلۡ
أَنتُمۡ
قَوۡمٞ
مُّسۡرِفُونَ
١٩
(Ba vị Sứ Giả) nói: “Điềm xấu của các người sẽ đeo bám các người (bởi sự vô đức tin của các người). Lẽ nào các người cho là điềm xấu khi được nhắc nhở (về Allah) ư? Không, các người đúng là một đám người tội lỗi.”
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
رسولوں کا جواب ٭٭

رسولوں نے جواب دیا کہ تم خود بدفطرت ہو۔ تمہارے اعمال ہی برے ہیں اور اسی وجہ سے تم پر مصیبتیں آتی ہیں۔ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ یہی بات فرعونیوں نے موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کے مومنوں سے کہی تھی۔ جب انہیں کوئی راحت ملتی توکہتے ہم تو اس کے مستحق ہی تھے۔ اور اگر کوئی رنج پہنچتا تو موسیٰعلیہ السلام اور مومنوں کی بدشگونی پر اسے محمول کرتے۔ جس کے جواب میں جناب باری نے فرمایا «أَلَا إِنَّمَا طَائِرُهُمْ عِندَ اللَّـهِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ» [ 7-سورة الأعراف: 31 ] ‏ یعنی ان کی مصیبتوں کی وجہ ان کے بد اعمال ہیں جن کا وبال ہماری جانب سے انہیں پہنچ رہا ہے۔ قوم صالح نے بھی اپنے نبی سے یہی کہا تھا اور یہی جواب پایا تھا۔ خود جناب پیغمبر آخر الزمان محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہی کہا گیا ہے جیسا کہ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے «وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَقُولُوا هَـٰذِهِ مِنْ عِندِكَ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِندِ اللَّـهِ فَمَالِ هَـٰؤُلَاءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًا» [ 4-سورة النساء: 78 ] ‏ یعنی اگر ان کافروں کو کوئی نفع ہوتا ہے تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر کوئی نقصان ہوتا ہے تو کہتے ہیں یہ تیری طرف سے ہے۔ کہدیجئیے کہ سب کچھ اللہ کی جانب سے ہے۔ انہیں کیا ہو گیا ہے کہ ان سے یہ بات بھی نہیں سمجھی جاتی؟

پھر فرماتا ہے کہ صرف اس وجہ سے کہ ہم نے تمہیں نصیحت کی، تمہاری خیر خواہی کی، تمہیں بھلی راہ سمجھائی۔ تمہیں اللہ کی توحید کی طرف رہنمائی کی تمہیں اخلاص و عبادت کے طریقے سکھائے تم ہمیں منحوس سمجھنے لگے؟ اور ہمیں اس طرح ڈرانے دھمکانے لگے؟ اور خوفزدہ کرنے لگے؟ اور مقابلہ پر اتر آئے؟ حقیقت یہ ہے کہ تم فضول خرچ لوگ ہو۔ حدود الہیہ سے تجاوز کر جاتے ہو۔ ہمیں دیکھو کہ ہم تمہاری بھلائی چاہیں۔ تمہیں دیکھو کہ تم ہم سے برائی سمجھو۔ بتاؤ تو بھلا یہ کوئی انصاف کی بات ہے؟ افسوس تم انصاف کے دائرے سے نکل گئے۔

صفحہ نمبر7337