Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Taha 20:87

20:87
قالوا ما اخلفنا موعدك بملكنا ولاكنا حملنا اوزارا من زينة القوم فقذفناها فكذالك القى السامري ٨٧
قَالُوا۟ مَآ أَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَلَـٰكِنَّا حُمِّلْنَآ أَوْزَارًۭا مِّن زِينَةِ ٱلْقَوْمِ فَقَذَفْنَـٰهَا فَكَذَٰلِكَ أَلْقَى ٱلسَّامِرِىُّ ٨٧
قَالُواْ
مَآ
أَخۡلَفۡنَا
مَوۡعِدَكَ
بِمَلۡكِنَا
وَلَٰكِنَّا
حُمِّلۡنَآ
أَوۡزَارٗا
مِّن
زِينَةِ
ٱلۡقَوۡمِ
فَقَذَفۡنَٰهَا
فَكَذَٰلِكَ
أَلۡقَى
ٱلسَّامِرِيُّ
٨٧
Họ đáp: “Chúng tôi nào đâu bội ước với Người nhưng vì chúng tôi bị bắt vác nặng nữ trang của toàn dân cho nên chúng tôi đã ném chúng (vào lò nấu kim loại) theo đề xuất của Samiri.”
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

ما اخلقنا موعدک بملکنا (02 : 88) ” ہم نے آپ سے وعدہ خلافی کچھ اپنے اتخیار سے نہیں کی۔ “ بات اتنی بڑی تھی کہ ہمارے بس میں نہ تھا کہ ہم اس سے باز رہتے۔

ولکنا حملنا اوزارا من زینۃ القوم فقذفنھا (02 : 88) ” معاملہ یہ ہوا کہ لوگوں کے زیورات کے بوجھ سے ہم لد گئے اور ہم نے بس ان کو پھینک دیا۔ “ ان کے پاس مصری عورتوں کے زیورات تھے جو وہ ساتھ لے آئے تھے۔ اس بوجھ کی طرف وہ اشارہ کرتے ہیں۔ ہم نے ان زیورات کو بوجھ اتارنے کے لئے پھینک دیا تھا کیونکہ یہ ہمارے پاس تھے اور تھے حرام۔ سامری نے ان کو چن لیا اور ان سے یہ بچھڑا بنا دیا۔ سامری مصر کا باشندہ تھا جو ان کا ساتھی بن گیا تھا۔ یا یہ بنی اسرائیل ہی میں سے ایک شخص تھا ، جس نے یہ لقب اختیار کرلیا تھا۔ اس نے اس بچھڑے میں ایسے سوراخ بنائے تھے کہ جب ان سے ہوا نکلتی تو بچھڑے جیسی آواز نکلتی تھی۔ اس بچھڑے میں نہ زندگی تھی اور نہ روح تھی۔ کیونکہ وہ تو ایک مردہ جسم تھا جو اس جسم کو کہا جاتا ہے جس میں زندگی نہ ہو۔ جونہی انہوں نے اس بچھڑنے کو آواز کرتے پایا۔ انہوں نے اس خدا کو بھلا دیا جس نے انہیں مصر سے نجات دی تھی یعنی ذلت کی سر زمین سے۔ چناچہ انہوں نے سونے کے اس بچھڑے کی پوجا شروع کردی۔ اپنی کم عقلی اور حماقت کی وجہ سے یہ کہنے لگے :