Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Bayan ul Quran Tafsir: Taha Ayah 120

20:120
فوسوس اليه الشيطان قال يا ادم هل ادلك على شجرة الخلد وملك لا يبلى ١٢٠
فَوَسْوَسَ إِلَيْهِ ٱلشَّيْطَـٰنُ قَالَ يَـٰٓـَٔادَمُ هَلْ أَدُلُّكَ عَلَىٰ شَجَرَةِ ٱلْخُلْدِ وَمُلْكٍۢ لَّا يَبْلَىٰ ١٢٠
فَوَسۡوَسَﲇ
إِلَيۡهِﲈ
ٱلشَّيۡطَٰنُﲉ
قَالَﲊ
يَٰٓـَٔادَمُﲋ
هَلۡﲌ
أَدُلُّكَﲍ
عَلَىٰﲎ
شَجَرَةِﲏ
ٱلۡخُلۡدِﲐ
وَمُلۡكٖﲑ
لَّاﲒ
يَبۡلَىٰﲓ
١٢٠ﲔ
Nhưng Shaytan đã thì thào với Y. Hắn bảo: “Hỡi Adam! Ngươi có muốn ta đưa ngươi đến Cây Vĩnh Cửu và một vương quốc sẽ không bao giờ điêu tàn không?”
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

قَالَ یٰٓاٰدَمُ ہَلْ اَدُلُّکَ عَلٰی شَجَرَۃِ الْخُلْدِ وَمُلْکٍ لَّا یَبْلٰی ”کہ اس درخت کا پھل کھانے کے بعد آپ علیہ السلام کو دوام حاصل ہوجائے گا اور زندگی کے لیے کبھی فنا کا خدشہ نہیں ہوگا۔ گویا شیطان نے اپنی پہلی سازش کا جال انسان کی اسی کمزوری کو بنیاد بنا کر بنا تھا جس کا ذکر سورة مریم کی آیت 92 کے ضمن میں گزر چکا ہے۔ یہاں اہرام مصر کے حوالے سے درج ذیل الفاظ ایک دفعہ پھر سے ذہن میں تازہ کرلیجیے :They defined cry of mans will To survive and conquer the storms of timeیعنی انسان وقت کے طوفانوں کو فتح کرلینا چاہتا ہے اور اس کی خواہش ہے کہ اس کی ہستی کو اس دنیا میں دوام اور تسلسل نصیب ہو۔ چناچہ شیطان نے انسانِ اوّل کی اسی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر فانی زندگی اور ہمیشہ کی بادشاہی مل جانے کا جھانسہ دے کر اسے ممنوعہ درخت کا پھل کھانے پر آمادہ کرلیا۔