Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tazkir ul Quran Tafsir: Sad Ayah 41

38:41
واذكر عبدنا ايوب اذ نادى ربه اني مسني الشيطان بنصب وعذاب ٤١
وَٱذْكُرْ عَبْدَنَآ أَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُۥٓ أَنِّى مَسَّنِىَ ٱلشَّيْطَـٰنُ بِنُصْبٍۢ وَعَذَابٍ ٤١
وَٱذۡكُرۡﳍ
عَبۡدَنَآﳎ
أَيُّوبَﳏ
إِذۡﳐ
نَادَىٰﳑ
رَبَّهُۥٓﳒ
أَنِّيﳓ
مَسَّنِيَﳔ
ٱلشَّيۡطَٰنُﳕ
بِنُصۡبٖﳖ
وَعَذَابٍﳗ
٤١ﳘ
Ngươi (hỡi Thiên Sứ) hãy nhớ đến người bề tôi Ayyub của TA khi Y khóc than gọi Thượng Đế của Y, cầu nguyện : “Quả thật, Shaytan đã làm cho bề tôi khổ tâm và đau đớn.”
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 38:41 đến 38:44

حضرت ایوب علیہ السلام بنی اسرائیل کے پیغمبروں میں سے تھے۔ ان کا زمانہ غالباً نویں صدی قبل مسیح ہے۔ ان کوکافی مال ودولت حاصل تھی۔ مگر مال ودولت میں گم ہونے کے بجائے وہ خدا کی عبادت کرتے اور لوگوں کو خدا کی طرف بلاتے تھے۔کچھ غلط قسم کے لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ ایوب کو جب اتنا زیادہ مال ودولت حاصل ہے تو وہ دین دارنہ بنیں گے تو اور کیا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر حجت قائم کرنے کےلیے حضرت ایوب کو مفلس بنادیا۔ مگر وہ بدستور اللہ کے عبادت گزار بنے رہے۔ انھوںنے کہا کہ ’’خداوند نے دیا اور خداوند نے لے لیا۔ خداوند کا نام مبارک ہو‘‘(ايوب 1:21)۔

شریر لوگ اب بھی چپ نہ ہو ئے۔ انھوں نے کہا کہ اصل امتحان تو یہ ہے کہ وہ جسمانی تکلیف میں مبتلا ہوں اور پھر بھی صبر وشکر پر قائم رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو یہ نمونہ بھی دکھایا۔ حضرت ایوب کو سخت جِلدی بیماری لاحق ہوئی اور ان کے تمام جسم پر پھوڑے ہوگئے۔ مگر وہ بدستور صبر وشکر کی تصویر بنے رہے۔ جب لوگوں پر حجت تمام ہوچکی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب کےلیے ایک چشمہ جاری کیا جس میں نہانے سے ان کا جسم بالکل تندرست ہوگیا۔ اور مال واولاد بھی دوبارہ مزید اضافہ کے ساتھ عطا فرمائے۔

حضرت ایوب نے بیماری کی حالت میں کسی بات پر قسم کھالی تھی کہ اچھے ہوگئے تو اپنی بیوی کو سو لکڑیاں ماریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس قسم کو پورا کرنے کی یہ تدبیر انھیں بتائی کہ ایک جھاڑو لو جس میں ایک سو سینکیں ہو اور اس سے ہلکے طورپر ایک بار اپنی بیوی کو مارو — اس سے معلوم ہوا کہ مخصوص حالات میں حیلہ کرنا جائز ہے، بشرطیکہ وہ کسی شرعی حکم کو باطل نہ کرتاہو۔خدا جب اپنے دین کےلیے کسی کو استعمال کرے اور وہ شخص کسی تحفظ کے بغیر اپنے آپ کو خدا کے حوالے کردے تو خدا اس کو دوبارہ اس سے زیادہ دے دیتاہے جتنا اس سے مذکورہ عمل کے دوران چھنا تھا۔