Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Saba 34:44

34:44
وما اتيناهم من كتب يدرسونها وما ارسلنا اليهم قبلك من نذير ٤٤
وَمَآ ءَاتَيْنَـٰهُم مِّن كُتُبٍۢ يَدْرُسُونَهَا ۖ وَمَآ أَرْسَلْنَآ إِلَيْهِمْ قَبْلَكَ مِن نَّذِيرٍۢ ٤٤
وَمَآ
ءَاتَيۡنَٰهُم
مِّن
كُتُبٖ
يَدۡرُسُونَهَاۖ
وَمَآ
أَرۡسَلۡنَآ
إِلَيۡهِمۡ
قَبۡلَكَ
مِن
نَّذِيرٖ
٤٤
TA (Allah) đã không ban cho họ bất cứ Kinh Sách nào để họ có thể học hỏi; và TA cũng không cử bất cứ người cảnh báo nào đến với họ trước Ngươi cả.
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 34:43 đến 34:45
کافر عذاب الٰہی کے مستحق کیوں ٹھہرے؟ ٭٭

کافروں کی وہ شرارت بیان ہو رہی ہے جس کے باعث وہ اللہ کے عذابوں کے مستحق ہوئے ہیں کہ اللہ کا کلام تازہ بتازہ اس کے افضل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سنتے ہیں۔ قبول کرنا ماننا اس کے مطابق عمل کرنا تو ایک طرف کہتے ہیں کہ دیکھو یہ شخص تمہیں تمہارے پرانے اچھے اور سچے دین سے روک رہا ہے اور اپنے باطل خیالات کی طرف تمہیں بلا رہا ہے یہ قرآن تو اس کا خود تراشیدہ ہے آپ ہی گھڑ لیتا ہے۔ اور یہ تو جادو ہے اور اس کا جادو ہونا کچھ ڈھکا چھپا نہیں بالکل ظاہر ہے۔

صفحہ نمبر7221

پھر فرماتا ہے کہ ان عربوں کی طرف نہ تو اس سے پہلے کوئی کتاب بھیجی گئی ہے نہ آپ سے پہلے ان میں سے کوئی رسول آیا ہے۔ اس لیے انہیں مدتوں سے تمنا تھی کہ اگر اللہ کا رسول ہم میں آتا اگر کتاب اللہ ہم میں اترتی تو ہم سب سے پہلے مطیع اور پابند ہو جاتے۔ لیکن جب اللہ نے ان کی یہ دیرینہ آرزو پوری کی تو جھٹلانے اور انکار کرنے لگے، ان سے اگلی امتوں کے نتیجے ان کے سامنے ہیں۔ وہ قوت و طاقت، مال و متاع، اسباب دنیوی، ان لوگوں سے بہت زیادہ رکھتے تھے۔ یہ تو ابھی ان کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے لیکن میرے عذاب کے بعد نہ مال کام آئے نہ اولاد اور کنبے قبیلے کام آئے۔ نہ قوت و طاقت نے کوئی فائدہ دیا۔ برباد کر دیئے گئے۔

جیسے فرمایا «وَلَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِيْمَآ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِيْهِ وَجَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّاَبْصَارًا وَّاَفْـــِٕدَةً» [46-الأحقاف:26] ‏ یعنی ” ہم نے انہیں قوت و طاقت دے رکھی تھی۔ آنکھیں اور کان بھی رکھتے تھے دل بھی تھے لیکن میری آیتوں کے انکار پر جب عذاب آیا اس وقت کسی چیز نے کچھ فائدہ نہ دیا۔ اور جس کے ساتھ مذاق اڑاتے تھے اس نے انہیں گھیر لیا۔ “ کیا یہ لوگ زمین میں چل پھر کر اپنے سے پہلے لوگوں کا انجام نہیں دیکھتے جو ان سے تعداد میں زیادہ طاقت میں بڑھے ہوئے تھے۔

مطلب یہ ہے کہ رسولوں کے جھٹلانے کے باعث پیس دیئے گئے۔ جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیئے گئے۔ تم غور کر لو! دیکھ لو کہ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کی نصرت کی اور کس طرح جھٹلانے والوں پر اپنا عذاب اتارا؟

صفحہ نمبر7222