Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Maryam 19:73

19:73
واذا تتلى عليهم اياتنا بينات قال الذين كفروا للذين امنوا اي الفريقين خير مقاما واحسن نديا ٧٣
وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ءَايَـٰتُنَا بَيِّنَـٰتٍۢ قَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَىُّ ٱلْفَرِيقَيْنِ خَيْرٌۭ مَّقَامًۭا وَأَحْسَنُ نَدِيًّۭا ٧٣
وَإِذَا
تُتۡلَىٰ
عَلَيۡهِمۡ
ءَايَٰتُنَا
بَيِّنَٰتٖ
قَالَ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُواْ
لِلَّذِينَ
ءَامَنُوٓاْ
أَيُّ
ٱلۡفَرِيقَيۡنِ
خَيۡرٞ
مَّقَامٗا
وَأَحۡسَنُ
نَدِيّٗا
٧٣
Và khi những Lời Mặc Khải Minh Bạch của TA được đọc cho họ nghe, những kẻ vô đức tin bảo những người có đức tin: “Trong hai nhóm chúng ta, nhóm nào là nhóm có địa vị tốt và đáng kính trọng nhất (trong thành phố Makkah này)?”
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 19:73 đến 19:74
کثرت مال فریب زندگی ٭٭

اللہ کی صاف صریح آیتوں سے پروردگار کے دلیل و برہان والے کلام سے کفار کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، وہ ان سے منہ موڑ لیتے ہیں، دیدے پھیر لیتے ہیں اور اپنی ظاہری شان و شوکت سے انہیں مرعوب کرنا چاہتے ہیں۔ کہتے ہیں بتاؤ کس کے مکانات پرتکلف ہیں اور کس کی بیٹھکیں سجی ہوئی ہیں اور آباد اور بارونق ہیں؟

پس ہم جو کہ مال و دولت، شان و شوکت، عزت و آبرو میں ان سے بڑھے ہوئے ہیں، ہم اللہ کے پیارے ہیں؟ یا یہ جو کہ چھپے پھرتے ہیں؟ کھانے پینے کو نہیں پاتے۔ کہیں ارقم بن ابو ارقم کے گھر چھپتے ہیں، کہیں اور، ادھر ادھر بھاگتے پھرتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے، کافروں نے کہا «لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُوْنَآ اِلَيْهِ وَاِذْ لَمْ يَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَيَقُوْلُوْنَ ھٰذَآ اِفْكٌ قَدِيْمٌ» [46-الأحقاف:11] ‏ ” اگر یہ دین بہتر ہوتا تو اسے پہلے ہم مانتے یا یہ؟ “

نوح علیہ السلام کی قوم نے بھی یہی کہا تھا کہ «قَالُوا أَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ» [26-الشعراء:111] ‏ ” تیرے ماننے والے تو سب غریب محتاج لوگ ہیں ہم تیرے تابعدارنہیں بن سکتے “۔

اور آیت میں ہے کہ «وَكَذَٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لِّيَقُولُوا أَهَـٰؤُلَاءِ مَنَّ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّن بَيْنِنَا أَلَيْسَ اللَّـهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ» [6-الأنعام:53] ‏ ” اسی طرح انہیں دھوکہ لگ رہا ہے اور کہہ اٹھتے ہیں کہ کیا یہی وہ اللہ کے پیارے بندے ہیں جنہیں اللہ نے ہم پر فضیلت دی ہے؟ “

پھر ان کے اس مغالطے کا جواب دیا کہ ” ان سے پہلے ان سے بھی ظاہر داری میں بڑھے ہوئے اور مالداری میں آگے نکلے ہوئے لوگ تھے لیکن ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ہم نے انہیں تہس نہس کر دیا “۔ ان کی مجلسیں، ان کے مکانات، ان کی قوتیں، ان کی مالداریاں ان سے سوا تھیں۔ شان و شوکت میں، ٹیپ ٹاپ میں، تکلفات میں، امارت اور شرافت میں ان سے کہیں زیادہ تھے۔ ” ان کے تکبر اور عناد کی وجہ سے ہم نے ان کا بھس اڑا دیا۔ غارت اور برباد کر دیا۔ فرعونیوں کو دیکھ لو، ان کے باغات، ان کی نہریں، ان کی کھیتیاں، ان کے شاندار مکانات اور عالیشان محلات اب تک موجود ہیں اور وہ غارت کر دیے گئے مچھلیوں کا لقمہ بن گئے “۔

”مقام“ سے مراد مسکن اور نعمتیں ہیں۔ ”ندی“ سے مراد مجلسیں اور بیٹھکیں ہیں۔ عرب میں بیٹھکوں اور لوگوں کے جمع ہونے کی جگہوں کو نادی اور ندی کہتے ہیں۔

جیسے آیت «وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنكَرَ» [29-العنكبوت:29] ‏ میں ہے۔ یہی ان مشرکین کا قول تھا کہ ہم بہ اعتبار دنیا تم سے بہت بڑھے ہوئے ہیں، لباس میں، مال میں، متاع میں، صورت شکل میں ہم تم سے افضل ہیں۔

صفحہ نمبر5141