Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ
31:3
هدى ورحمة للمحسنين ٣
هُدًۭى وَرَحْمَةًۭ لِّلْمُحْسِنِينَ ٣
هُدٗى
وَرَحۡمَةٗ
لِّلۡمُحۡسِنِينَ
٣
Là nguồn Chỉ Đạo và là một Hồng Ân dành cho những người làm tốt.
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

آیت 3 ہُدًی وَّرَحْمَۃً لِّلْمُحْسِنِیْنَ ”یعنی قرآن محسنین کے لیے سراسر ہدایت اور سراپا رحمت ہے۔ یاد رہے سورة البقرۃ کی آیت 2 میں اس کے مقابل ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ کے الفاظ ہیں کہ یہ ہدایت ہے اہل تقویٰ کے لیے۔ یہاں پر ایک تو ہدایت کے ساتھ لفظ ”رَحْمَۃ“ کا اضافہ فرمایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں کتاب سے استفادہ کے حوالے سے ”متقین“ کے بجائے ”محسنین“ کا ذکر ہے۔ محسنین دراصل متقین سے بلند تر درجے پر فائزوہ لوگ ہیں جن کا ایمان ترقی پاتے پاتے ”احسان“ کے درجے تک پہنچ جاتا ہے۔۔ ”احسان“ قرآن کی ایک اہم اصطلاح ہے۔ اس کی وضاحت قبل ازیں سورة المائدۃ کی اس آیت کے ضمن میں کی جا چکی ہے : اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْاط واللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ”جب تک وہ تقویٰ کی روش اختیار کیے رکھیں اور ایمان لائیں اور نیک عمل کریں اور پھر تقویٰ میں بڑھیں اور ایمان لائیں ‘ پھر اور تقویٰ میں بڑھیں اور پھر درجہ احسان پر فائز ہوجائیں۔ اور اللہ تعالیٰ محسنوں سے محبت کرتا ہے“۔ یہ اس درجہ بندی کی طرف اشارہ ہے جس میں سب سے پہلے اسلام ‘ اس کے بعد ایمان ‘ اور پھر اس کے اوپر احسان کا درجہ ہے۔ اسلام ‘ ایمان اور احسان کی یہ تین منازل ”حدیث جبریل علیہ السلام“ میں بھی بیان ہوئی ہیں۔ چناچہ اللہ کے راستے کے مسافروں کی اعلیٰ ترین منزل ”احسان“ ہے۔