Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Bayan ul Quran Tafsir: Ibrahim Ayah 5

14:5
ولقد ارسلنا موسى باياتنا ان اخرج قومك من الظلمات الى النور وذكرهم بايام الله ان في ذالك لايات لكل صبار شكور ٥
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِـَٔايَـٰتِنَآ أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ ٱلظُّلُمَـٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ وَذَكِّرْهُم بِأَيَّىٰمِ ٱللَّهِ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍۢ لِّكُلِّ صَبَّارٍۢ شَكُورٍۢ ٥
وَلَقَدۡﲜ
أَرۡسَلۡنَاﲝ
مُوسَىٰﲞ
بِـَٔايَٰتِنَآﲟ
أَنۡﲠ
أَخۡرِجۡﲡ
قَوۡمَكَﲢ
مِنَﲣ
ٱلظُّلُمَٰتِﲤ
إِلَىﲥ
ٱلنُّورِﲦ
وَذَكِّرۡهُمﲧ
بِأَيَّىٰمِﲨ
ٱللَّهِۚﲩﲪ
إِنَّﲫ
فِيﲬ
ذَٰلِكَﲭ
لَأٓيَٰتٖﲮ
لِّكُلِّﲯ
صَبَّارٖﲰ
شَكُورٖﲱ
٥ﲲ
Quả thật, TA đã phái Musa (Môi-sê) đến mang theo các phép lạ của TA (để chứng minh sứ mạng của Y) với lệnh phán: “Ngươi hãy đưa người dân của Ngươi từ nơi tối tăm đến với ánh sáng, và Ngươi hãy nhắc nhở họ về những ngày (mà họ đã được hưởng thụ ân huệ) của Allah.” Quả thật, trong sự việc đó là những dấu hiệu dành cho tất cả những ai biết kiên nhẫn, biết tri ân.
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 14:5 đến 14:6

آیت 5 وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَآاَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ وَذَكِّرْهُمْ ڏ بِاَيّٰىمِ اللّٰهِ یہ ”التّذکیر بایّام اللّٰہ“ کی وہی اصطلاح ہے جس کا ذکر شاہ ولی اللہ دہلوی کے حوالے سے قبل ازیں بار بار آچکا ہے۔ شاہ ولی اللہ نے اپنی مشہور کتاب ”الفوز الکبیر“ میں مضامین قرآن کی تقسیم کے سلسلے میں ”التذکیر بایام اللّٰہ“ کی یہ اصطلاح استعمال کی ہے یعنی اللہ کے ان دنوں کے حوالے سے لوگوں کو خبردار کرنا جن دنوں میں اللہ نے بڑے بڑے فیصلے کیے اور ان فیصلوں کے مطابق کئی قوموں کو نیست و نابود کردیا۔ اس کے ساتھ شاہ ولی اللہ نے دوسری اصطلاح ”التذکیر بآلاء اللّٰہ“ کی استعمال کی ہے ‘ یعنی اللہ کی نعمتوں اور اس کی نشانیوں کے حوالے سے تذکیر اور یاد دہانی۔اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ صَبَّار اور شَکُور دونوں مبالغے کے صیغے ہیں۔ صبر اور شکر یہ دونوں صفات آپس میں ایک دوسرے کے لیے تکمیلی complementary نوعیت کی ہیں۔ چناچہ ایک بندۂ مؤمن کو ہر وقت ان میں سے کسی ایک حالت میں ضرور ہونا چاہیے اور اگر وہ ان میں سے ایک حالت سے نکلے تو دوسری حالت میں داخل ہوجائے۔ اگر اللہ نے اس کو نعمتوں اور آسائشوں سے نوازا ہے تو وہ شکر کرنے والا ہو اور اگر کوئی مصیبت یا تنگی اسے پہنچی ہے تو صبر کرنے والا ہو۔حضرت صہیب بن سنان رومی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : عَجَبًا لِاَمْرِ الْمُؤْمِنِ اِنَّ اَمْرَہٗ کُلَّہٗ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذَاکَ لِاَحَدٍ الاَّ لِلْمُؤْمِنِ ‘ اِنْ اَصَابَتْہُ سَرَّاءُ شَکَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہٗ وَاِنْ اَصَابَتْہُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہٗ 1”مؤمن کا معاملہ تو بہت ہی خوب ہے ‘ اس کے لیے ہر حال میں بھلائی ہے ‘ اور یہ بات مؤمن کے سوا کسی اور کے لیے نہیں ہے۔ اگر اسے کوئی آسائش پہنچتی ہے تو شکر کرتا ہے ‘ پس یہ اس کے لیے بہتر ہے ‘ اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے ‘ پس یہ اس کے لیے بہتر ہے۔“