Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Hud 11:76

11:76
يا ابراهيم اعرض عن هاذا انه قد جاء امر ربك وانهم اتيهم عذاب غير مردود ٧٦
يَـٰٓإِبْرَٰهِيمُ أَعْرِضْ عَنْ هَـٰذَآ ۖ إِنَّهُۥ قَدْ جَآءَ أَمْرُ رَبِّكَ ۖ وَإِنَّهُمْ ءَاتِيهِمْ عَذَابٌ غَيْرُ مَرْدُودٍۢ ٧٦
يَٰٓإِبۡرَٰهِيمُ
أَعۡرِضۡ
عَنۡ
هَٰذَآۖ
إِنَّهُۥ
قَدۡ
جَآءَ
أَمۡرُ
رَبِّكَۖ
وَإِنَّهُمۡ
ءَاتِيهِمۡ
عَذَابٌ
غَيۡرُ
مَرۡدُودٖ
٧٦
(Các Thiên Thần nói với Ibrahim): “Này Ibrahim, Ngươi hãy từ bỏ việc này - (việc cầu xin cho đám dân của Lut), bởi lệnh (trừng phạt) của Thượng Đế của Ngươi đã được ban hành, chúng chắc chắn sẽ phải chịu sự trừng phạt, không thể nào tránh khỏi.”
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 11:74 đến 11:76
ابراہیم علیہ السلام کی بردباری اور سفارش ٭٭

مہمانوں کے کھانا نہ کھانے کی وجہ سے ابراہیم علیہ السلام کے دل میں جو دہشت سمائی تھی، ان کا حل کھل جانے پر وہ دور ہو گئی۔ پھر آپ علیہ السلام نے اپنے ہاں لڑکا ہونے کی خوشخبری بھی سن لی۔

«وَلَمَّا جَاءَتْ رُسُلُنَا إِبْرَاهِيمَ بِالْبُشْرَىٰ قَالُوا إِنَّا مُهْلِكُو أَهْلِ هَـٰذِهِ الْقَرْيَةِ إِنَّ أَهْلَهَا كَانُوا ظَالِمِينَ» [29-العنکبوت:31] ‏ اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ یہ فرشتے قوم لوط کی ہلاکت کے لیے بھیجے گئے ہیں تو آپ علیہ السلام فرمانے لگے کہ اگر کسی بستی میں تین سو مومن ہوں کیا پھر بھی وہ بستی ہلاک کی جائے گی؟ جبرائیل علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ پھر پوچھا کہ اگر چالیس ہوں؟ جواب ملا پھر بھی نہیں۔ دریافت کیا اگر تیس ہوں۔ کہا گیا پھر بھی نہیں۔ یہاں تک کے تعداد گھٹاتے گھٹاتے پانچ کی بابت پوچھا تو فرشتوں نے یہی جواب دیا۔ پھر ایک ہی کی نسبت سوال کیا اور یہی جواب ملا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا «قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ» [29-العنکبوت:32] ‏ ” پھر اس بستی کو لوط علیہ السلام کی موجودگی میں تم کیسے ہلاک کرو گے؟ فرشتوں نے کہا ہمیں وہاں لوط کی موجودگی کا علم ہے اسے اور اس کے اہل خانہ کو سوائے اس کی بیوی کے ہم بچالیں گے “۔

اب آپ علیہ السلام کو اطمینان ہو اور خاموش ہوگئے۔ ابراہیم علیہ السلام بردبار، نرم دل اور رجوع رہنے والے تھے اس آیت کی تفسیر پہلے سورۃ التوبہ میں گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر علیہ السلام کی بہترین صفتیں بیان فرمائیں ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کی اس گفتگو اور سفارش کے جواب میں فرمان باری ہوا کہ ” اب آپ علیہ السلام اس سے چشم پوشی کیجئے۔ قضاء حق نافذ و جاری ہوگئی اب عذاب آئے گا اور وہ لوٹایا نہ جائے گا۔

صفحہ نمبر3885