Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tazkir ul Quran Tafsir: Hud Ayah 108

11:108
۞ واما الذين سعدوا ففي الجنة خالدين فيها ما دامت السماوات والارض الا ما شاء ربك عطاء غير مجذوذ ١٠٨
۞ وَأَمَّا ٱلَّذِينَ سُعِدُوا۟ فَفِى ٱلْجَنَّةِ خَـٰلِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ ٱلسَّمَـٰوَٰتُ وَٱلْأَرْضُ إِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ ۖ عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوذٍۢ ١٠٨
۞ وَأَمَّاﳊ ﳋ
ٱلَّذِينَﳌ
سُعِدُواْﳍ
فَفِيﳎ
ٱلۡجَنَّةِﳏ
خَٰلِدِينَﳐ
فِيهَاﳑ
مَاﳒ
دَامَتِﳓ
ٱلسَّمَٰوَٰتُﳔ
وَٱلۡأَرۡضُﳕ
إِلَّاﳖ
مَاﳗ
شَآءَﳘ
رَبُّكَۖﳙﳚ
عَطَآءًﳛ
غَيۡرَﳜ
مَجۡذُوذٖﳝ
١٠٨ﳞ
Còn đối với những người hạnh phúc, họ sẽ ở trong Thiên Đàng, họ sẽ ở trong đó lâu bằng thời gian mà trời đất hãy còn tồn tại ngoại trừ Thượng Đế của Ngươi muốn khác đi, một sự ban thưởng không giới hạn.
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 11:106 đến 11:109

قرآن میں سب سے زیادہ اہمیت اور سب سے زیادہ تکرار کے ساتھ جس چیز کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ انسان اپنی موجودہ حالت پر چھوڑ نہیں ديے جائیں گے۔ بلکہ موت کے بعد وہ خدا کی عدالت میں حاضر كيے جائیں گے۔ وہاں ہر ایک اپنی کاركردگی کے مطابق جنت یا دوزخ میں ڈالا جائے گا۔

اس اہمیت اور تکرارکی وجہ لوگوں کا ’’شک‘‘ ہے۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ زمین پر بے شمار انسان ایسے ہیں جو خدا کی ہدایت کو نہیں مانتے۔ بے شمار انسان ایسے ہیں جو خدا کی ہدایت سے آزاد ہو کر عمل کرتے ہیں۔ بیشتر انسان خدا پسند زندگی کے بجائے خود پسند زندگی گزاررہے ہیں۔ پھر بھی ان کا کچھ نہیں بگڑتا۔ پھر بھی سارے لوگ کامیاب ہیں۔ بظاہر یہاں کہیں دکھائی نہیں دیتا کہ خدا کے وفاداروںکو کوئی خصوصی انعام مل رہا ہو یا خدا کے نافرمانوں کو کوئی خاص سزا بھگتنی پڑتی ہو۔

اس بنا پر لوگوں کو شک ہونے لگتاہے۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ انسانوں کا جو انجام مسلسل وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اس کے سوا بھی کوئی انجام ان کے لیے مقدر ہے۔ یہاں قرآن بتاتا ہے کہ لوگوں کا مسلسل غیرحق پر چلنا اس لیے نہیں ہے کہ انھوںنے مسئلہ کے تمام پہلوؤں پر غور کیا اور پھر اس کو معقول پاکر اسے اختیار کرلیا۔ اس کا سبب دراصل رواج کی پیروی ہے، نہ کہ دلیل اور معقولیت کی پیروی۔

اس کے باوجود لوگوں کے عمل کا انجام ان کے سامنے نہیں آتا تو اس کا سبب مہلتِ امتحان ہے۔ زمین پر موت سے پہلے کی زندگی جانچ کی زندگی ہے۔ اس لیے موت تک انسان کو یہاں ڈھیل دی جارہی ہے کہ وہ جو چاہے بولے اور جو چاہے کرے۔ موت اس مقررہ مدت کا خاتمہ ہے۔ موت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو مقام امتحان سے اٹھا کر مقام عدالت میں پہنچا دیا جائے۔ وہاں ہر ایک کو وہی ملے گا جس کا وہ فی الواقع مستحق تھا اورہر ایک سے وہ چھن جائےگا جس کو اس نے استحقاق کے بغیر اپنے گرد جمع کررکھا تھا۔