Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Ghafir 40:66

40:66
۞ قل اني نهيت ان اعبد الذين تدعون من دون الله لما جاءني البينات من ربي وامرت ان اسلم لرب العالمين ٦٦
۞ قُلْ إِنِّى نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ ٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ لَمَّا جَآءَنِىَ ٱلْبَيِّنَـٰتُ مِن رَّبِّى وَأُمِرْتُ أَنْ أُسْلِمَ لِرَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ٦٦
۞ قُلۡ
إِنِّي
نُهِيتُ
أَنۡ
أَعۡبُدَ
ٱلَّذِينَ
تَدۡعُونَ
مِن
دُونِ
ٱللَّهِ
لَمَّا
جَآءَنِيَ
ٱلۡبَيِّنَٰتُ
مِن
رَّبِّي
وَأُمِرۡتُ
أَنۡ
أُسۡلِمَ
لِرَبِّ
ٱلۡعَٰلَمِينَ
٦٦
Ngươi (Thiên Sứ) hãy nói: “Allah cấm Ta thờ phượng những thần linh mà các ngươi cầu nguyện ngoài Ngài sau khi Ta đã nhận được những bằng chứng rõ ràng từ Thượng Đế của Ta và Ta được lệnh phải thần phục Thượng Đế của vũ trụ và vạn vật.”
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 40:66 đến 40:68
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مشرکین کو دعوت توحید ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ اپنے سوا ہر کسی کی عبادت سے اپنی مخلوق کو منع فرما چکا ہے۔ اس کے سوا اور کوئی مستحق عبادت نہیں۔ اس کی بہت بڑی دلیل اس کے بعد کی آیت ہے، جس میں فرمایا کہ اسی «وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْك لَہٗ» نے تمہیں مٹی سے پھر نطفے سے پھر خون کی پھٹکی سے پیدا کیا۔ اسی نے تمہیں ماں کے پیٹ سے بچے کی صورت میں نکالا۔ ان تمام حالات کو وہی بدلتا رہا پھر اسی نے بچپن سے جوانی تک تمہیں پہنچایا۔ وہی جوانی کے بعد بڑھاپے تک لے جائے گا یہ سب کام اسی ایک کے حکم تقدیر اور تدبیر سے ہوتے ہیں۔ پھر کس قدر نامرادی ہے کہ اس کے ساتھ دوسرے کی عبادت کی جائے؟

بعض اس سے پہلے ہی فوت ہو جاتے ہیں۔ یعنی کچے پنے میں ہی گر جاتے ہیں۔ حمل ساقط ہو جاتا ہے۔ بعض بچین میں بعض جوانی میں بعض ادھیڑ عمر میں بڑھاپے سے پہلے ہی مر جاتے ہیں۔ چنانچہ اور جگہ قرآن پاک میں ہے «وَنُقِرُّ فِي الْاَرْحَامِ مَا نَشَاۗءُ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى» [ 22- الحج: 5 ] ‏ یعنی ہم ماں کے پیٹ میں ٹھہراتے ہیں جب تک چاہیں۔ یہاں فرمان ہے کہ تاکہ تم وقت مقررہ تک پہنچ جاؤ۔ اور تم سوچو سمجھو۔ یعنی اپنی حالتوں کے اس انقلاب سے تم ایمان لے آؤ کہ اس دنیا کے بعد بھی تمہیں نئی زندگی میں ایک روز کھڑا ہونا ہے، وہی زندگی دینے والا اور مارنے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی موت زیست پر قادر نہیں۔ اس کے کسی حکم کو کسی فیصلے کو کسی تقرر کو کسی ارادے کو کوئی توڑنے والا نہیں، جو وہ چاہتا ہے ہو کر ہی رہتا ہے اور جو وہ نہ چاہے ناممکن ہے کہ وہ ہو جائے۔

صفحہ نمبر8008