Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Ghafir 40:37

40:37
اسباب السماوات فاطلع الى الاه موسى واني لاظنه كاذبا وكذالك زين لفرعون سوء عمله وصد عن السبيل وما كيد فرعون الا في تباب ٣٧
أَسْبَـٰبَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ فَأَطَّلِعَ إِلَىٰٓ إِلَـٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّى لَأَظُنُّهُۥ كَـٰذِبًۭا ۚ وَكَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوٓءُ عَمَلِهِۦ وَصُدَّ عَنِ ٱلسَّبِيلِ ۚ وَمَا كَيْدُ فِرْعَوْنَ إِلَّا فِى تَبَابٍۢ ٣٧
أَسۡبَٰبَ
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
فَأَطَّلِعَ
إِلَىٰٓ
إِلَٰهِ
مُوسَىٰ
وَإِنِّي
لَأَظُنُّهُۥ
كَٰذِبٗاۚ
وَكَذَٰلِكَ
زُيِّنَ
لِفِرۡعَوۡنَ
سُوٓءُ
عَمَلِهِۦ
وَصُدَّ
عَنِ
ٱلسَّبِيلِۚ
وَمَا
كَيۡدُ
فِرۡعَوۡنَ
إِلَّا
فِي
تَبَابٖ
٣٧
“Những con đường của các tầng trời đưa trẫm đi diện kiến Thượng Đế của Musa. Nhưng trẫm thực sự nghĩ nó là một kẻ dối trá.” Như thế đó, hành động tội lỗi đã trở nên hấp dẫn đối với Pha-ra-ông và hắn bị cản trở khỏi con đường (của Allah). Và mưu đồ của Pha-ra-ông chỉ đưa đến thất bại.
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 40:36 đến 40:37
فرعون کی سرکشی اور تکبر ٭٭

فرعون کی سرکشی اور تکبر بیان ہو رہا ہے کہ اس نے اپنے وزیر ہامان سے کہا کہ میرے لیے ایک بلند و بالا محل تعمیر کرا۔ اینٹوں اور چونے کی پختہ اور بہت اونچی عمارت بنا۔ جیسے اور جگہ ہے کہ «‏فَأَوْقِدْ لِي يَا هَامَانُ عَلَى الطِّينِ فَاجْعَل لِّي صَرْحًا» [ 28-القص: 38 ] ‏ اس نے کہا اے ہامان اینٹیں پکا کر میرے لیے ایک اونچی عمارت بنا۔

حضرت ابرہیم نخی رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ قبر کو پختہ بنانا اور اسے چونے گج کرنا سلف صالحین مکروہ جانتے تھے۔ [ ابن ابی حاتم ] ‏ فرعون کہتا ہے کہ یہ محل میں اس لیے بنوا رہا ہوں کہ آسمان کے دروازوں اور آسمان کے راستوں تک میں پہنچ جاؤں اور موسیٰ علیہ السلام کے اللہ کو دیکھ لوں گو میں جانتا ہوں کہ موسیٰ علیہ السلام ہے جھوٹا۔ وہ جو کہہ رہا ہے کہ اللہ نے اسے بھیجا ہے یہ بالکل غلط ہے۔

صفحہ نمبر7957

دراصل فرعون کا یہ ایک مکر تھا اور وہ اپنی رعیت پر یہ ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ دیکھو میں ایسا کام کرتا ہوں جس سے موسیٰ علیہ السلام کا جھوٹ بالکل کھل جائے اور میری طرح تمہیں بھی یقین آ جائے کہ موسیٰ علیہ السلام غلط گو مفتری اور کذاب ہے۔ فرعون راہ اللہ سے روک دیا گیا۔ اس کی ہر تدبیر الٹی ہی رہی اور جو کام وہ کرتا ہے وہ اس کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے اور وہ خسارے میں بڑھتا ہی جا رہا ہے۔

صفحہ نمبر7958