Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: At-Tawbah 9:121

9:121
ولا ينفقون نفقة صغيرة ولا كبيرة ولا يقطعون واديا الا كتب لهم ليجزيهم الله احسن ما كانوا يعملون ١٢١
وَلَا يُنفِقُونَ نَفَقَةًۭ صَغِيرَةًۭ وَلَا كَبِيرَةًۭ وَلَا يَقْطَعُونَ وَادِيًا إِلَّا كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ ٱللَّهُ أَحْسَنَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ١٢١
وَلَا
يُنفِقُونَ
نَفَقَةٗ
صَغِيرَةٗ
وَلَا
كَبِيرَةٗ
وَلَا
يَقۡطَعُونَ
وَادِيًا
إِلَّا
كُتِبَ
لَهُمۡ
لِيَجۡزِيَهُمُ
ٱللَّهُ
أَحۡسَنَ
مَا
كَانُواْ
يَعۡمَلُونَ
١٢١
Bất kỳ một khoản chi tiêu nào, dù nhỏ hay lớn, mà họ chi dùng (cho con đường chính nghĩa của Allah), hoặc bất kỳ một thung lũng nào mà họ đi qua thì đều được ghi nhận để Allah ban thưởng cho họ tốt hơn điều mà họ đã từng làm.
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
مجاہدین کے اعمال کا بہترین بدلہ قربت الٰہی ہے ٭٭

یہ مجاہد جو کچھ تھوڑا بہت خرچ کریں اور راہ اللہ میں جس زمین پر چلیں پھریں، وہ سب ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ نکتہ یاد رہے کہ اوپر کا کام ذکر کر کے اجر کے بیان میں لفظ «بہ» لائے تھے اور یہاں نہیں لائے اس لیے کہ وہ غیر اختیار افعال تھے اور یہ خود ان سے صادر ہوتے ہیں۔

پس یہاں فرماتا ہے کہ انہیں ان کے اعمال کا بہترین بدلہ اللہ تعالیٰ دے گا۔ اس آیت کا بہت بڑا حصہ اور اس کا کامل اجر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سمیٹا ہے۔ غزوہ تبوک میں آپ رضی اللہ عنہ نے دل کھول کر خرچ کیا۔ چنانچہ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں اس سختی کے لشکر کی امداد کا ذکر فرما کر اس کی رغبت دلائی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ایک سو اونٹ مع کجاوے، پالان، رسیوں وغیرہ کے میں دوں گا۔‏“ آپ نے پھر اسی کو بیان فرمایا تو پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ایک سو اور بھی دوں گا۔‏“ آپ ایک زینہ منبر کا اترے پھر رغبت دلائی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے پھر فرمایا: ”ایک سو اور بھی“ آپ نے خوشی خوشی اپنا ہاتھ ہلاتے ہوئے فرمایا: ”بس عثمان! آج کے بعد کوئی عمل نہ بھی کرے تو بھی یہی کافی ہے۔‏“ [مسند احمد:75/4:ضعیف] ‏

اور روایت میں ہے کہ ایک ہزار دینار کی تھیلی لا کر سیدنا عثمان نے آپ کے پلے میں ڈال دی۔ آپ انہیں اپنے ہاتھ سے الٹ پلٹ کرتے جاتے تھے اور فرما رہے تھے آج کے بعد یہ جو بھی عمل کریں انہیں نقصان نہ دے گا۔ باربار یہی فرماتے رہے۔ [مسند احمد:63/5:حسن] ‏

اس آیت کی تفسیر میں سیدنا قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جس قدر انسان اپنے وطن سے اللہ کی راہ میں دور نکلتا ہے، اتنا ہی اللہ کے قرب میں بڑھتا ہے۔‏“

صفحہ نمبر3628