Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Ar-Rum 30:58

30:58
ولقد ضربنا للناس في هاذا القران من كل مثل ولين جيتهم باية ليقولن الذين كفروا ان انتم الا مبطلون ٥٨
وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِى هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانِ مِن كُلِّ مَثَلٍۢ ۚ وَلَئِن جِئْتَهُم بِـَٔايَةٍۢ لَّيَقُولَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا مُبْطِلُونَ ٥٨
وَلَقَدۡ
ضَرَبۡنَا
لِلنَّاسِ
فِي
هَٰذَا
ٱلۡقُرۡءَانِ
مِن
كُلِّ
مَثَلٖۚ
وَلَئِن
جِئۡتَهُم
بِـَٔايَةٖ
لَّيَقُولَنَّ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُوٓاْ
إِنۡ
أَنتُمۡ
إِلَّا
مُبۡطِلُونَ
٥٨
Quả thật, TA (Allah) đã trình bày cho con người trong Qur’an này đủ loại hình ảnh thí dụ; tuy nhiên, cho dù Ngươi (hỡi Thiên Sứ) có mang đến cho họ bất cứ dấu hiệu nào thì chắc chắn những kẻ vô đức tin sẽ nói: “Các ngươi thực sự chỉ là những kẻ bịa chuyện mà thôi.”
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 30:58 đến 30:60
نماز میں مقتدی اور امام کا تعلق ٭٭

” حق کو ہم نے اس کلام پاک میں پوری طرح واضح کر دیا ہے اور مثالیں دےدے کر سمجھا دیا ہے کہ لوگوں پر حق کھل جائے اور اس کی تابعداری میں لگ جائیں۔ ان کے پاس تو کوئی بھی معجزہ آ جائے کیساہی نشان حق دیکھ لیں لیکن یہ جھٹ سے بلاغور علی الفور کہیں گے کہ یہ جادو ہے باطل ہے جھوٹ ہے “۔ دیکھئیے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔

خود قرآن کریم کی آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ» [10-یونس:96] ‏ میں ہے کہ ” جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے گو ان کے پاس تمام نشانیاں آ جائیں یہاں تک کہ وہ درد ناک عذاب کا معائنہ کر لیں “۔

پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ” بے علم لوگوں کے دلوں پر اسی طرح اللہ کی مہر لگ جاتی ہے۔ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبر کیجئے ان کی مخالفت اور دشمنی پر درگزر کئے چلے جائیے۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے وہ ضرور تمہیں ایک دن ان پر غالب کرے گا اور تمہاری امداد فرمائے گا، اور دنیا اور آخرت میں تجھے اور تیرے تابعداروں کو مخالفین پر غلبہ دے گا۔ تہیں چاہیئے کہ اپنے کام پر لگے رہو حق پر جم جاؤ اس سے ایک انچ ادھر ادھر نہ ہٹو اسی میں ساری ہدایت ہے باقی سب باطل کے ڈھیر ہیں “۔

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ صبح کی نماز میں تھے کہ ایک خارجی نے آپ رضی اللہ عنہ کا نام لے کر زور سے اس آیت کی تلاوت کی۔ «وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» [39-الزمر:65] ‏ آپ نے خاموشی سے اس آیت کو سنا سمجھا اور نماز ہی میں اس کے جواب میں آیت «فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِيْنَ لَا يُوْقِنُوْنَ» [30-الروم:60] ‏ تلاوت فرمائی“۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/10:] ‏ (‏وہ حدیث جس سے اس مبارک سورۃ کی فضیلت اور اس کی قرأت کا صبح کی نماز میں مستحب ہونا ثابت ہوتا ہے)۔

صفحہ نمبر6828

ایک صحابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے اسی سورت کی قرأت کی۔ اثناء قرأت میں آپ کو وہم سا ہو گیا فارغ ہو کر فرمانے لگے تم میں بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہوتے ہیں لیکن باقاعدہ ٹھیک ٹھاک وضو نہیں کرتے۔ تم میں سے جو بھی ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہو اسے اچھی طرح وضو کرنا چائیے ۔ [مسند احمد:471/3:حسن] ‏

اس کی سند حسن ہے متن بھی حسن ہے اور اس میں ایک عجیب بھید ہے اور بہت بڑی خبر ہے اور وہ یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقتدیوں کے وضو بالکل درست نہ ہونے کا اثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی پڑا۔ پس ثابت ہوا کہ مقتدیوں کی نماز امام کی نماز کے ساتھ معلق ہے۔

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورہ روم کی تفسیر ختم ہوئی۔

صفحہ نمبر6829