Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ
13:30
كذالك ارسلناك في امة قد خلت من قبلها امم لتتلو عليهم الذي اوحينا اليك وهم يكفرون بالرحمان قل هو ربي لا الاه الا هو عليه توكلت واليه متاب ٣٠
كَذَٰلِكَ أَرْسَلْنَـٰكَ فِىٓ أُمَّةٍۢ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهَآ أُمَمٌۭ لِّتَتْلُوَا۟ عَلَيْهِمُ ٱلَّذِىٓ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ وَهُمْ يَكْفُرُونَ بِٱلرَّحْمَـٰنِ ۚ قُلْ هُوَ رَبِّى لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ مَتَابِ ٣٠
كَذَٰلِكَ
أَرۡسَلۡنَٰكَ
فِيٓ
أُمَّةٖ
قَدۡ
خَلَتۡ
مِن
قَبۡلِهَآ
أُمَمٞ
لِّتَتۡلُوَاْ
عَلَيۡهِمُ
ٱلَّذِيٓ
أَوۡحَيۡنَآ
إِلَيۡكَ
وَهُمۡ
يَكۡفُرُونَ
بِٱلرَّحۡمَٰنِۚ
قُلۡ
هُوَ
رَبِّي
لَآ
إِلَٰهَ
إِلَّا
هُوَ
عَلَيۡهِ
تَوَكَّلۡتُ
وَإِلَيۡهِ
مَتَابِ
٣٠
Tương tự như việc TA (Allah) đã cử phái các Sứ Giả đến với các cộng động của họ trước đây, TA cử Ngươi (Thiên Sứ Muhammad) đến với cộng đồng của Ngươi để Ngươi xướng đọc cho chúng nghe những gì TA đã mặc khải cho Ngươi; tuy nhiên, chúng đã vô đức tin nơi Đấng Ar-Rahman (Đấng Độ Lượng). Ngươi hãy nói với chúng: “Ngài là Thượng Đế của Ta, Đấng không có Thượng Đế nào khác ngoài Ngài, Ta phó thác cho Ngài và Ta quay về sám hối với Ngài.”
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حوصلہ افزائی ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ ” جیسے اس امت کی طرف ہم نے تجھے بھیجا کہ تو انہیں کلام الٰہی پڑھ کر سنائے، اسی طرح تجھ سے پہلے اور رسولوں کو ان اگلی امتوں کی طرف بھیجا تھا انہوں نے بھی پیغام الٰہی اپنی اپنی امتوں کو پہنچایا مگر انہوں نے جھٹلایا اسی طرح تو بھی جھٹلایا گیا تو تجھے تنگ دل نہ ہونا چاہیئے۔ ہاں ان جھٹلانے والوں کو ان کا انجام دیکھنا چاہیئے جو ان سے پہلے تھے کہ عذاب الٰہی نے انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا پس تیری تکذیب تو ان کی تکذیب سے بھی ہمارے نزدیک زیادہ ناپسند ہے۔ اب یہ دیکھ لیں کہ ان پر کیسے عذاب برستے ہیں؟ “

یہی فرمان آیت «تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ» [16-النحل:63] ‏ میں اور آیت «وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰي مَا كُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ وَلَقَدْ جَاءَكَ مِنْ نَّبَاِى الْمُرْسَلِيْنَ» [6-الأنعام:34] ‏ میں ہے کہ ” دیکھ لے ہم نے اپنے والوں کی کس طرح امداد فرمائی؟ اور انہیں کیسے غالب کیا؟ تیری قوم کو دیکھ کر رحمن سے کفر کر رہی ہے۔ وہ اللہ کے وصف اور نام کو مانتی ہی نہیں “۔

حدیبیہ کا صلح نامہ لکھتے وقت اس پر بضد ہو گئے کہ ہم آیت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» نہیں لکھنے دیں گے۔ ہم نہیں جانتے کہ رحمن اور رحیم کیا ہے؟ پوری حدیث بخاری میں موجود ہے۔

قرآن میں ہے «قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰى وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:110] ‏، ” اللہ کہہ کر اسے پکارو یا رحمن کہہ کر جس نام سے پکارو وہ تمام بہترین ناموں والا ہے “۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ کے نزدیک عبداللہ اور عبدالرحمٰن نہایت پیارے نام ہیں ۔ [صحیح مسلم:2132] ‏

فرمایا ” جس سے تم کفر کر رہے ہو میں تو اسے مانتا ہوں وہی میرا پروردگار ہے میرے بھروسے اسی کے ساتھ ہیں اسی کی جانب میری تمام تر توجہ اور رجوع اور دل کا میل اس کے سوا کوئی ان باتوں کا مستحق نہیں “۔

صفحہ نمبر4161