Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Ar-Ra'd 13:3

13:3
وهو الذي مد الارض وجعل فيها رواسي وانهارا ومن كل الثمرات جعل فيها زوجين اثنين يغشي الليل النهار ان في ذالك لايات لقوم يتفكرون ٣
وَهُوَ ٱلَّذِى مَدَّ ٱلْأَرْضَ وَجَعَلَ فِيهَا رَوَٰسِىَ وَأَنْهَـٰرًۭا ۖ وَمِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ جَعَلَ فِيهَا زَوْجَيْنِ ٱثْنَيْنِ ۖ يُغْشِى ٱلَّيْلَ ٱلنَّهَارَ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يَتَفَكَّرُونَ ٣
وَهُوَ
ٱلَّذِي
مَدَّ
ٱلۡأَرۡضَ
وَجَعَلَ
فِيهَا
رَوَٰسِيَ
وَأَنۡهَٰرٗاۖ
وَمِن
كُلِّ
ٱلثَّمَرَٰتِ
جَعَلَ
فِيهَا
زَوۡجَيۡنِ
ٱثۡنَيۡنِۖ
يُغۡشِي
ٱلَّيۡلَ
ٱلنَّهَارَۚ
إِنَّ
فِي
ذَٰلِكَ
لَأٓيَٰتٖ
لِّقَوۡمٖ
يَتَفَكَّرُونَ
٣
Và Ngài là Ðấng đã trải rộng mặt đất và đặt lên nó những quả núi vững chắc và sông ngòi; và từ mỗi loại trái quả Ngài tạo ra từng cặp, đực và cái; và chính Ngài là Đấng lấy ban đêm bao phủ ban ngày. Quả thật, trong sự việc đó là những dấu hiệu dành cho nhóm người biết suy ngẫm.
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 13:3 đến 13:4
عالم سفلی کے انواع و اقسام ٭٭

اوپر کی آیت میں عالم علوی کا بیان تھا، یہاں علم سفلی کا ذکر ہو رہا ہے، زمین کو طول عرض میں پھیلا کر اللہ ہی نے بچھایا ہے۔ اس میں مضبوط پہاڑ بھی اسی کے گاڑے ہوئے ہیں، اس میں دریاؤں اور چشموں کو بھی اسی نے جاری کیا ہے۔ تاکہ مختلف شکل و صورت، مختلف رنگ، مختلف ذائقوں کے پھل پھول کے درخت اس سے سیراب ہوں۔ جوڑا جوڑا میوے اس نے پیدا کئے، کھٹے میٹھے وغیرہ۔

رات دن ایک دوسرے کے پے در پے برابر آتے جاتے رہتے ہیں، ایک کا آنا دوسرے کا جانا ہے پس مکان سکان اور زمان سب میں تصرف اسی قادر مطلق کا ہے۔ اللہ کی ان نشانیوں، حکمتوں، اور دلائل کو جو غور سے دیکھے وہ ہدایت یافتہ ہو سکتا ہے۔ زمین کے ٹکڑے ملے جلے ہوئے ہیں، پھر قدرت کو دیکھے کہ ایک ٹکڑے سے تو پیداوار ہو اور دوسرے سے کچھ نہ ہو۔ ایک کی مٹی سرخ، دوسرے کی سفید، زرد، وہ سیاہ، یہ پتھریلی، وہ نرم، یہ میٹھی، وہ شور۔ ایک ریتلی، ایک صاف، غرض یہ بھی خالق کی قدرت کی نشانی ہے اور بتاتی ہے کہ فاعل، خود مختار، مالک الملک، لا شریک ایک وہی اللہ خالق کل ہے۔ نہ اس کے سوا کوئی معبود، نہ پالنے والا۔ «وَزَرْعٌ وَنَخِيلٌ» کو اگر «جَنَّاتٌ» پر عطف ڈالیں تو پیش سے مرفوع پڑھنا چاہیئے اور «أَعْنَابٍ» پر عطف ڈالیں تو زیر سے مضاف الیہ مان کر مجرور پڑھنا چاہیئے۔ ائمہ کی جماعت کی دونوں قرأتیں ہیں۔

«صِنْوَانٍ» کہتے ہیں ایک درخت جو کئی تنوں اور شاخوں والا ہو جیسے انار اور انجیر اور بعض کھجوریاں۔ «وَغَيْرُ صِنْوَانٍ» جو اس طرح نہ ہو ایک ہی تنا ہو جیسے اور درخت ہوتے ہیں۔ اسی سے انسان کے چچا کو «صُنوُالْاَبْ» کہتے ہیں۔

صفحہ نمبر4116

حدیث میں بھی یہ آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ انسان کا چچا مثل باپ کے ہوتا ہے ۔ [صحیح مسلم:983] ‏

سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ایک جڑ یعنی ایک تنے میں کئی ایک شاخدار درخت کھجور ہوتے ہیں اور ایک تنے پر ایک ہی ہوتا ہے یہی صنوان اور غیر صنوان ہے۔‏“ یہی قول اور بزرگوں کا بھی ہے۔ سب کے لیے پانی ایک ہی ہے یعنی بارش کا لیکن ہر مزے اور پھل میں کمی بیشی میں بے انتہا فرق ہے، کوئی میٹھا ہے، کوئی کھٹا ہے۔ حدیث میں بھی یہ تفسیر ہے ملاحظہ ہو ترمذی شریف۔ [سنن ترمذي:3118،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

الغرض قسموں اور جنسوں کا اختلاف، شکل صورت کا اختلاف، رنگ کا اختلاف، بو کا اختلاف، مزے کا اختلاف، پتوں کا اختلاف، تروتازگی کا اختلاف، ایک بہت ہی میٹھا، ایک سخت کڑوا، ایک نہایت خوش ذائقہ، ایک بے حد بد مزا، رنگ کسی کا زرد، کسی کا سرخ، کسی کا سفید، کسی کا سیاہ۔ اسی طرح تازگی اور پھل میں بھی اختلاف، حالانکہ غذا کے اعتبار سے سب یکساں ہیں۔ یہ قدرت کی نیرنگیاں ایک ہوشیار شخص کے لیے عبرت ہیں۔ اور فاعل مختار اللہ کی قدرت کا بڑا زبردست پتہ دیتی ہیں کہ جو وہ چاہتا ہے ہوتا ہے۔ عقل مندوں کے لیے یہ آیتیں اور یہ نشانیاں کافی وافی ہیں۔

صفحہ نمبر4117