Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: An-Nisa 4:63

4:63
اولايك الذين يعلم الله ما في قلوبهم فاعرض عنهم وعظهم وقل لهم في انفسهم قولا بليغا ٦٣
أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ يَعْلَمُ ٱللَّهُ مَا فِى قُلُوبِهِمْ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ وَقُل لَّهُمْ فِىٓ أَنفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِيغًۭا ٦٣
أُوْلَٰٓئِكَ
ٱلَّذِينَ
يَعۡلَمُ
ٱللَّهُ
مَا
فِي
قُلُوبِهِمۡ
فَأَعۡرِضۡ
عَنۡهُمۡ
وَعِظۡهُمۡ
وَقُل
لَّهُمۡ
فِيٓ
أَنفُسِهِمۡ
قَوۡلَۢا
بَلِيغٗا
٦٣
Đó là những kẻ mà Allah biết rõ điều (xấu) trong thâm tâm họ. Thế nên, Ngươi (hỡi Thiên Sứ Muhammad) hãy tránh xa họ, hãy cảnh báo họ và hãy nói với họ bằng lời lẽ sâu sắc và thấm thía vào bản thân họ.
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 4:62 đến 4:63
باب

پھر منافقوں کی مذمت میں بیان ہو رہا ہے کہ ان کے گناہوں کے باعث جب تکلیفیں پہنچتی ہیں اور تیری ضرورت محسوس ہوتی ہے تو دوڑے بھاگے آتے ہیں اور تمہیں خوش کرنے کے لیے عذر معذرت کرنے بیٹھ جاتے ہیں اور قسمیں کھا کر اپنی نیکی اور صلاحیت کا یقین دلانا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ کے سوا دوسروں کی طرف ان مقدمات کے لے جانے سے ہمارا مقصود صرف یہی تھا کہ ذرا دوسروں کا دل رکھا جائے آپس کا میل جول نبھ جائے ورنہ دل سے کچھ ہم ان کی اچھائی کے معتقد نہیں۔

جیسے اور آیت میں «‏فَتَرَى الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ يُّسَارِعُوْنَ فِيْهِمْ يَقُوْلُوْنَ نَخْشٰٓى اَنْ تُصِيْبَنَا دَاۗىِٕرَةٌ ۭفَعَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّاْتِيَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَيُصْبِحُوْا عَلٰي مَآ اَ سَرُّوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِيْنَ» [5-المائدة:52] ‏ تک بیان ہوا ہے۔ یعنی تو دیکھے گا کہ بیمار دل یعنی منافق یہود و نصاریٰ کی باہم دوستی کی تمام تر کوششیں کرتے پھرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں ان سے اختلاف کی وجہ سے آفت میں پھنس جانے کا خطرہ ہے پس بہت ممکن ہے اللہ تعالیٰ فتح لائے یا اپنا کوئی حکم نازل فرمائیں اور یہ لوگ ان ارادوں پر پشیمان ہونے لگیں جو ان کے دلوں میں پوشیدہ ہیں ۔

صفحہ نمبر1788

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ابوبرزہ اسلمی ایک کاہن شخص تھا، یہود اپنے بعض فیصلے اس سے کراتے تھے ایک واقعہ میں مشرکین بھی اس کی طرف دوڑے اس میں یہ آیتیں «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ» [4-النساء:60] ‏ سے «إِلَّا إِحْسَانًا وَتَوْفِيقًا» [4-النساء:62] ‏ تک نازل ہوئیں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس قسم کے لوگ یعنی منافقین کے دلوں میں جو کچھ ہے؟

اس کا علم اللہ تعالیٰ کو کامل ہے اس پر کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی مخفی نہیں وہ ان کے ظاہر وباطن کا اسے علم ہے تو ان سے چشم پوشی کر ان کے باطنی ارادوں پر ڈانٹ ڈپٹ نہ کر ہاں انہیں نفاق اور دوسروں سے شر و فساد وابستہ رہنے سے باز رہنے کی نصیحت کر اور دل میں اترنے والی باتیں ان سے کہ بلکہ ان کے لیے دعا بھی کر۔

صفحہ نمبر1789