Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tazkir ul Quran Tafsir: An-Naml Ayah 7

27:7
اذ قال موسى لاهله اني انست نارا ساتيكم منها بخبر او اتيكم بشهاب قبس لعلكم تصطلون ٧
إِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِأَهْلِهِۦٓ إِنِّىٓ ءَانَسْتُ نَارًۭا سَـَٔاتِيكُم مِّنْهَا بِخَبَرٍ أَوْ ءَاتِيكُم بِشِهَابٍۢ قَبَسٍۢ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُونَ ٧
إِذۡﱵ
قَالَﱶ
مُوسَىٰﱷ
لِأَهۡلِهِۦٓﱸ
إِنِّيٓﱹ
ءَانَسۡتُﱺ
نَارٗاﱻ
سَـَٔاتِيكُمﱼ
مِّنۡهَاﱽ
بِخَبَرٍﱾ
أَوۡﱿ
ءَاتِيكُمﲀ
بِشِهَابٖﲁ
قَبَسٖﲂ
لَّعَلَّكُمۡﲃ
تَصۡطَلُونَﲄ
٧ﲅ
(Ngươi hãy nhớ lại) khi Musa bảo người nhà của Y: “Ta đã nhìn thấy một ngọn lửa ở đằng xa, Ta sẽ mang về cho các người tin tức từ chỗ ngọn lửa đó hoặc có thể Ta sẽ mang về cho các người một khúc củi cháy để các người sưởi ấm.”
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 27:1 đến 27:8

قبطی کی موت کے واقعہ کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام مصر سے مدین چلے گئے تھے۔ مدین کا علاقہ بحراحمر کی اس شاخ کے مشرقی ساحل پر تھا جس کو خلیج عقبہ کہاجاتاہے۔ حضرت موسیٰ نے یہاں تقریباً آٹھ سال گزارے اس کے بعد وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ مصر واپس جانے کے لیے روانہ ہوئے۔ اس سفر میں وہ بحر احمر کی دونوں شاخوں کے درمیان اس پہاڑ کے کنارے پہنچے جس کا قدیم نام طور تھا اور اب اس کو جبل موسیٰ (Gebel Musa) کہاجاتا ہے۔

یہ غالباً سردیوں کی رات تھی۔ حضرت موسیٰ کو دور پہاڑ پر ایک آگ سی چیز نظر آئی۔ وہ اس کی طرف روانہ ہوئے۔ مگر قریب پہنچ کر معلوم ہوا کہ یہ خدا کی تجلی تھی، نہ کہ کوئی انسانی آگ۔

پہاڑ کے اوپر جہاں حضرت موسیٰ نے روشنی دیکھی تھی وہاں آج بھی ایک قدیم درخت موجود ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہی وہ درخت ہے جس کے اوپر سے حضرت موسیٰ کو خدا کی آواز سنائی دی تھی۔ یہاں بعد کو عیسائی حضرات نے گرجا اور خانقاہ تعمیر کردیا جو آج بھی لوگوں کے ليے زیارت گاہ بنا ہوا ہے۔