Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Bayan ul Quran Tafsir: An-Naml Ayah 49

27:49
قالوا تقاسموا بالله لنبيتنه واهله ثم لنقولن لوليه ما شهدنا مهلك اهله وانا لصادقون ٤٩
قَالُوا۟ تَقَاسَمُوا۟ بِٱللَّهِ لَنُبَيِّتَنَّهُۥ وَأَهْلَهُۥ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيِّهِۦ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ أَهْلِهِۦ وَإِنَّا لَصَـٰدِقُونَ ٤٩
قَالُواْﱸ
تَقَاسَمُواْﱹ
بِٱللَّهِﱺ
لَنُبَيِّتَنَّهُۥﱻ
وَأَهۡلَهُۥﱼ
ثُمَّﱽ
لَنَقُولَنَّﱾ
لِوَلِيِّهِۦﱿ
مَاﲀ
شَهِدۡنَاﲁ
مَهۡلِكَﲂ
أَهۡلِهِۦﲃ
وَإِنَّاﲄ
لَصَٰدِقُونَﲅ
٤٩ﲆ
Những kẻ đó bảo: “Chúng ta hãy cùng nhau thề với Allah rằng chúng ta nhất định sẽ giết (Saleh) và gia đình của Y vào ban đêm, rồi chúng ta sẽ nói với người thừa kế của Y rằng chúng ta không hề biết gì đến việc gia đình Y bị thủ tiêu và chúng ta hoàn toàn nói thật.”
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 27:49 đến 27:50

آیت 49 قَالُوْا تَقَاسَمُوْا باللّٰہِ لَنُبَیِّتَنَّہٗ وَاَہْلَہٗ ”ان سب سرداروں نے مل کر حضرت صالح علیہ السلام کو قتل کرنے کی سازش کی۔ ان میں سے کوئی اکیلا یہ اقدام کر کے حضرت صالح علیہ السلام کے قبیلے کے ساتھ دشمنی مول نہیں لے سکتا تھا ‘ اس لیے انہوں نے حلف اٹھوا کر سب کو اس پر آمادہ کیا۔ سب کو اس طرح اس مہم میں شامل کرنے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ ان میں سے کوئی شخص راز فاش نہ کرسکے۔ قبائلی روایات و قوانین کے تحت پورا قبیلہ بحیثیت مجموعی اپنے تمام افراد کے جان و مال کے تحفظ کا ذمہ دار ہوتا ہے اور اپنے کسی فرد کو کوئی گزند پہنچنے کی صورت میں پورا قبیلہ یک جان ہو کر اس کے بدلے کا اہتمام کرتا ہے۔ سورة ہود علیہ السلام میں ہم پڑھ آئے ہیں کہ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے لوگ بھی آپ علیہ السلام کے خلاف ایسا ہی اقدام کرنا چاہتے تھے لیکن آپ علیہ السلام کے قبیلے کے ڈر کی وجہ سے وہ ایسا نہ کرسکے۔ اپنی اس مجبوری کا اقرار انہوں نے ان الفاظ میں کیا تھا : وَلَوْلاَ رَہْطُکَ لَرَجَمْنٰکَز آیت 91 ”اور اگر تمہارا قبیلہ نہ ہوتا تو ہم تمہیں سنگسار کردیتے۔“ خود محمد رسول اللہ ﷺ کے خلاف بھی مکہ میں ایک وقت ایسا آیا کہ سب مشرکین آپ ﷺ کے قتل کے درپے ہوگئے ‘ مگر اپنی اس خواہش کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ڈرتے تھے کہ ان کا یہ اقدام ان کے قبائل کے درمیان کہیں خانہ جنگی کا باعث نہ بن جائے۔ چناچہ انہوں نے بھی بعینہٖ وہی منصوبہ بنایا جو حضرت صالح علیہ السلام کی قوم کے سرداروں نے بنایا تھا کہ ہر قبیلے سے ایک ایک نوجوان اس عمل میں شریک ہو اور سب مل کر آپ ﷺ پر حملہ کریں۔ اس طرح نہ تو یہ پتا چل سکے گا کہ اصل قاتل کون ہے اور نہ ہی بنو ہاشم سب قبائل سے بدلہ لینے کی جرأت کرسکیں گے۔بہر حال حضرت صالح علیہ السلام کی قوم کے ان نو سرداروں نے باہم حلف اٹھا کر منصوبہ بنایا کہ وہ سب مل کر رات کو آپ علیہ السلام کے گھر پر دھاوا بول دیں گے اور :