Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: An-Nahl 16:54

16:54
ثم اذا كشف الضر عنكم اذا فريق منكم بربهم يشركون ٥٤
ثُمَّ إِذَا كَشَفَ ٱلضُّرَّ عَنكُمْ إِذَا فَرِيقٌۭ مِّنكُم بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ ٥٤
ثُمَّ
إِذَا
كَشَفَ
ٱلضُّرَّ
عَنكُمۡ
إِذَا
فَرِيقٞ
مِّنكُم
بِرَبِّهِمۡ
يُشۡرِكُونَ
٥٤
Sau đó, khi Ngài loại bỏ nghịch cảnh khỏi các ngươi, ngay lập tức một thành phần trong các ngươi lại dựng lên những thần linh khác cùng với Thượng Đế.
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 16:51 đến 16:55
ہر چیز کا واحد مالک وہی ہے ٭٭

اللہ واحد کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں، وہ لا شریک ہے، وہ ہر چیز کا خالق ہے، مالک ہے، پالنہار ہے۔ اسی کی خالص عبادت دائمی اور واجب ہے۔ «أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّـهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا» [3-آل عمران:83] ‏ ” اس کے سو دوسروں کی عبادت کے طر یقے نہ اختیار کرنے چاہئیں۔ آسمان و زمین کی تمام مخلوق خوشی یا ناخوشی اس کی ماتحت ہے “۔

سب کو لوٹایا جانا اسی کی طرف ہے، خلوص کے ساتھ اسی کی عبادت کرو۔ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے سے بچو۔ «أَلَا لِلَّـهِ الدِّينُ الْخَالِصُ» [39-الزمر:3] ‏ ” دین خالص صرف اللہ ہی کا ہے “۔ آسمان و زمین کی ہر چیز کا مالک وہی تنہا ہے۔ نفع نقصان اسی کے اختیار میں ہے، جو کچھ نعمتیں بندوں کے ہاتھ میں ہیں سب اسی کی طرف سے ہیں، رزق نعمتیں عافیت تصرف اسی کی طرف سے ہے، اسی کے فضل و احسان بدن پر ہیں۔ اور اب بھی ان نعمتوں کے پالنے کے بعد بھی تم اس کے ویسے ہی محتاج ہو مصیبتیں اب بھی سر پر منڈلا رہی ہیں۔

سختی کے وقت وہی یاد آتا ہے اور گڑ گڑا کر پوری عاجزی کے ساتھ کٹھن وقت میں اسی کی طرف جھکتے ہو۔ خود مشرکین مکہ کا بھی یہی حال تھا کہ «وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الْإِنسَانُ كَفُورًا» [17-الاسراء:67] ‏ ” جب سمندر میں گھر جاتے باد مخالف کے جھونکے کشتی کو پتے کی طرح ہچکو لے دینے لگتے تو اپنے ٹھاکروں، دیوتاؤں، بتوں، فقیروں، ولیوں، نبیوں سب کو بھول جاتے اور خالص اللہ سے لو لگا کر خلوص دل سے اس سے بچاؤ اور نجات طلب کرتے۔ لیکن کنارے پر کشتی کے پار لگتے ہی اپنے پرانے اللہ سب یاد آ جاتے اور معبود حقیقی کے ساتھ پھر ان کی پوجا پاٹ ہونے لگتی “۔

اس سے بڑھ کر بھی ناشکری کفر اور نعمتوں کی فراموشی اور کیا ہو سکتی ہے؟ یہاں بھی فرمایا کہ ” مطلب نکل جاتے ہی بہت سے لوگ آنکھیں پھیر لیتے ہیں “۔

«لِيَكْفُرُوا» کا لام لام عاقبت ہے اور لام تعلیل بھی کہا گیا ہے یعنی ہم نے یہ خصلت ان کی اس لیے کر دی ہے کہ وہ اللہ کی نعمت پر پردے ڈالیں اور اس کا انکار کریں حالانکہ دراصل نعمتوں کا دینے والا، مصیبتوں کا دفع کرنے والا اس کے سوا کوئی نہیں۔

پھر انہیں ڈراتا ہے کہ ” اچھا دنیا میں تو اپنا کام چلا لو، معمولی سا فائدہ یہاں کا اٹھا لو لیکن اس کا انجام ابھی ابھی معلوم ہو جائے گا “۔

صفحہ نمبر4463