Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Qiyamah 75:15

75:15
ولو القى معاذيره ١٥
وَلَوْ أَلْقَىٰ مَعَاذِيرَهُۥ ١٥
وَلَوۡ
أَلۡقَىٰ
مَعَاذِيرَهُۥ
١٥
Cho dù y có đưa ra mọi lời bào chữa.
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

آیت 15{ وَّلَوْ اَلْقٰی مَعَاذِیْرَہٗ۔ } ”اور چاہے وہ کتنے ہی بہانے پیش کرے۔“ ظاہر ہے دنیا میں تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی چرب زبان شخص خود ساختہ عذر پیش کر کے اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں پر پردہ ڈال دیتا ہے۔ ایسا کرنے سے ممکن ہے وہ وقتی طور پر متعلقہ لوگوں کو مطمئن کرلے لیکن اس کا ضمیر اس کو مسلسل یاد دلاتا رہتا ہے کہ تم جھوٹے ہو۔ اب آئندہ آیات میں خطاب کا رخ حضور ﷺ کی طرف ہوگیا ہے اور ساتھ ہی کلام کا صوتی آہنگ بھی تبدیل ہوگیا ہے۔ ان آیات کے آخر میں قُــرْاٰنَــہٗ ‘ بَیَانَہٗ جیسے الفاظ آرہے ہیں۔ جیسے کہ آغاز میں ذکر ہوا تھا ‘ یہ سورت اپنے اسلوب اور صوتی آہنگ کے اعتبار سے چھوٹے چھوٹے کئی حصوں پر مشتمل ہے۔ ان میں سے ہر حصے کی خوبصورتی اور انفرادیت آیات کے آخر میں آنے والے ہم آواز الفاظ کی وجہ سے زیادہ نمایاں نظر آتی ہے۔ مثلاً ابتدائی آیات کا اختتام قِیَامَہ ‘ لَوَّامہ ‘ عِظَامَہ ‘ بَنَانَہ ‘ اَمَامَہ جیسے الفاظ پر ہوتا ہے۔ اس کے بعد چند آیات کے آخر میں الْـبَصَر ‘ القَمَر ‘ المَفَر ‘ وَزَر ‘ الْمُسْتَقر جیسے الفاظ آئے۔ جبکہ گزشتہ دو آیات کے اختتامی الفاظ بصیرۃ ، معاذیرہ آپس میں ہم آواز ہیں۔ صوتی آہنگ اور اسلوب کی یہ تبدیلی سورت کی آئندہ آیات میں بھی مسلسل نظر آئے گی۔