Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Bayan ul Quran Tafsir: Al-Qasas Ayah 83

28:83
تلك الدار الاخرة نجعلها للذين لا يريدون علوا في الارض ولا فسادا والعاقبة للمتقين ٨٣
تِلْكَ ٱلدَّارُ ٱلْـَٔاخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّۭا فِى ٱلْأَرْضِ وَلَا فَسَادًۭا ۚ وَٱلْعَـٰقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ ٨٣
تِلۡكَﲷ
ٱلدَّارُﲸ
ٱلۡأٓخِرَةُﲹ
نَجۡعَلُهَاﲺ
لِلَّذِينَﲻ
لَاﲼ
يُرِيدُونَﲽ
عُلُوّٗاﲾ
فِيﲿ
ٱلۡأَرۡضِﳀ
وَلَاﳁ
فَسَادٗاۚﳂﳃ
وَٱلۡعَٰقِبَةُﳄ
لِلۡمُتَّقِينَﳅ
٨٣ﳆ
Đó là ngôi nhà (nơi Thiên Đàng) ở cõi Đời Sau mà TA đã tạo ra cho những ai không muốn suy tôn mình cao cả và cũng không làm những điều thối nát trên trái đất. Và kết cuộc tốt đẹp chỉ dành cho những người ngoan đạo.
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

آیت 83 تِلْکَ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ نَجْعَلُہَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا ط ”دراصل یہاں پر اقتدار کی طلب اور ہوس کی مذمت ہے نہ کہ بوقت ضرورت اقتدار کی ذمہ داری سنبھالنے کی۔ جیسے حضور ﷺ کی انقلابی جدوجہدّ کے نتیجے میں مدینہ کی چھوٹی سی ریاست وجود میں آگئی تو آپ ﷺ کو اس کے سربراہ کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالنا پڑی۔ لیکن نہ تو آپ ﷺ کی جدوجہد کا مقصد حصول اقتدار تھا اور نہ ہی آپ ﷺ اس کے خواہش مند تھے۔ چناچہ اقتدار کا خواہش مند ہونے اور اقتدار کی ذمہ داری نبھانے کے لیے آمادہ ہوجانے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اس حوالے سے یہاں پر واضح کیا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یقیناً آخرت کا گھر ان لوگوں کے لیے مخصوص کر رکھا ہے جو اس کے دین کی سر بلندی کے لیے جدوجہد میں خود کو کھپا رہے ہیں۔ لیکن اس کٹھن راستے کے مسافروں کو اس حقیقت سے آگاہ ہونا چاہیے کہ اگر اس جدوجہد کے دوران میں دل کے کسی گوشے میں ہوس اقتدار کی کوئی کو نپل پھوٹ پڑی یا اپنا نام اونچا کرنے کی خواہش نے نفس کے کسی کونے میں جڑ پکڑ لی تو اللہ کے ہاں ایسا ”مجاہد“ نااہل disqualified قرار پائے گا اور اس کی ہر ”جدوجہد“ مستردکر دی جائے گی۔وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ ”آخرت کی نعمتوں اور اس کے عیش و آرام کو اللہ تعالیٰ نے اپنے متقی بندوں کے لیے مخصوص کر رکھا ہے۔