Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tazkir ul Quran Tafsir: Al-Qasas Ayah 76

28:76
۞ ان قارون كان من قوم موسى فبغى عليهم واتيناه من الكنوز ما ان مفاتحه لتنوء بالعصبة اولي القوة اذ قال له قومه لا تفرح ان الله لا يحب الفرحين ٧٦
۞ إِنَّ قَـٰرُونَ كَانَ مِن قَوْمِ مُوسَىٰ فَبَغَىٰ عَلَيْهِمْ ۖ وَءَاتَيْنَـٰهُ مِنَ ٱلْكُنُوزِ مَآ إِنَّ مَفَاتِحَهُۥ لَتَنُوٓأُ بِٱلْعُصْبَةِ أُو۟لِى ٱلْقُوَّةِ إِذْ قَالَ لَهُۥ قَوْمُهُۥ لَا تَفْرَحْ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلْفَرِحِينَ ٧٦
۞ إِنَّﲖ ﲗ
قَٰرُونَﲘ
كَانَﲙ
مِنﲚ
قَوۡمِﲛ
مُوسَىٰﲜ
فَبَغَىٰﲝ
عَلَيۡهِمۡۖﲞﲟ
وَءَاتَيۡنَٰهُﲠ
مِنَﲡ
ٱلۡكُنُوزِﲢ
مَآﲣ
إِنَّﲤ
مَفَاتِحَهُۥﲥ
لَتَنُوٓأُﲦ
بِٱلۡعُصۡبَةِﲧ
أُوْلِيﲨ
ٱلۡقُوَّةِﲩ
إِذۡﲪ
قَالَﲫ
لَهُۥﲬ
قَوۡمُهُۥﲭ
لَاﲮ
تَفۡرَحۡۖﲯﲰ
إِنَّﲱ
ٱللَّهَﲲ
لَاﲳ
يُحِبُّﲴ
ٱلۡفَرِحِينَﲵ
٧٦ﲶ
Qarun đúng thực xuất thân từ đám dân của Musa nhưng y đã cư xử kiêu ngạo với họ. TA đã ban cho (Qarun) kho tàng châu báu nhiều đến mức cần phải nhờ đến cả đại đội những người cơ bắp lực lưỡng mới vác nổi những chìa khóa kho của y. Khi người dân bảo y: “Ngươi chớ mừng vui đầy kiêu ngạo! Bởi quả thật Allah không yêu thương những kẻ vui mừng đầy kiêu ngạo (về sự giàu có của mình).”
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 28:76 đến 28:77

قارون کا نام یہودی کتابوں میں قورح (Korah) آیا ہے۔ وہ بنی اسرائیل کا ایک فرد تھا۔ مگر وہ اپنی قوم سے کٹ کر فرعون کا وفادار بن گیا۔ اس کی اسے یہ قیمت ملی کہ وہ فرعون کا مقرب بن گیا۔ اس نے اپنی دنیا دارانہ صلاحیت کے ذریعے اتنا کمایا کہ وہ مصر کا سب سے زیادہ دولت مند شخص بن گیا۔ دولت پاکر اس کے اندر شکر کا جذبہ ابھرنا چاہيے تھا۔ مگر دولت نے اس کے اندر فخر کا جذبہ پیدا کیا۔ اپنے معاشی وسائل سے اس کو جو نیکی کمانی چاہيے تھی وہ نیکی اس نے نہیں کمائی۔

زمین میں فساد کرنا کیا ہے۔ اس آیت 77 کے مطابق، زمین میں فساد برپا کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ ایک شخص کو زیادہ دولت ملے تو وہ اس کو صرف اپنی ذات کے لیے خرچ کرے۔ سمندر میں زمین کا پانی آکر جمع ہوتاہے تو سمندر پانی کو بھاپ کی شکل میں اڑا کردوبارہ اس کو پوری زمین پر پھیلا دیتاہے۔ یہ خدا کی دنیا میں اصلاح کا ایک نمونہ ہے۔ یہی چیز انسان سے اس طرح مطلوب ہے کہ اگر کسی وجہ سے ایک شخص کے پاس زیادہ دولت اكٹھاہوجائے تو اس کو چاہيے کہ وہ اس کو مختلف طریقوں سے ان لوگوں کی طرف لوٹائے جنھیں معاشی تقسیم میں کم حصہ ملا ہے۔ گویا جمع شدہ دولت کو گردش میں لانا اصلاح ہے اور جمع شدہ دولت کو جمع رکھنا فساد۔