Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Qasas 28:63

28:63
قال الذين حق عليهم القول ربنا هاولاء الذين اغوينا اغويناهم كما غوينا تبرانا اليك ما كانوا ايانا يعبدون ٦٣
قَالَ ٱلَّذِينَ حَقَّ عَلَيْهِمُ ٱلْقَوْلُ رَبَّنَا هَـٰٓؤُلَآءِ ٱلَّذِينَ أَغْوَيْنَآ أَغْوَيْنَـٰهُمْ كَمَا غَوَيْنَا ۖ تَبَرَّأْنَآ إِلَيْكَ ۖ مَا كَانُوٓا۟ إِيَّانَا يَعْبُدُونَ ٦٣
قَالَ
ٱلَّذِينَ
حَقَّ
عَلَيۡهِمُ
ٱلۡقَوۡلُ
رَبَّنَا
هَٰٓؤُلَآءِ
ٱلَّذِينَ
أَغۡوَيۡنَآ
أَغۡوَيۡنَٰهُمۡ
كَمَا
غَوَيۡنَاۖ
تَبَرَّأۡنَآ
إِلَيۡكَۖ
مَا
كَانُوٓاْ
إِيَّانَا
يَعۡبُدُونَ
٦٣
Những kẻ mà Lời (kết tội) đã được khẳng định đối với bọn họ sẽ thưa: “Lạy Thượng Đế của bầy tôi! Đây là những kẻ mà bầy tôi đã dắt đi lạc. Bầy tôi dắt bọn họ đi giống như việc tự bản thân bầy tôi đi lạc; bầy tôi vô can với bọn họ trước mặt Ngài; bọn họ đã không thờ phượng bầy tôi trước đây.”
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 28:62 đến 28:63
کہاں ہیں تمہارے بت ٭٭

مشرکوں کو قیامت کے دن پکار کر سامنے کھڑا کر کے اللہ تبارک وتعالیٰ فرمائے گا کہ ” دنیا میں جنہیں تم میرے سوا پوجتے رہے جن بتوں اور پتھروں کو مانتے رہے ہو وہ کہاں ہیں؟ انہیں پکارو اور دیکھو کہ وہ تمہاری کچھ مدد کرتے ہیں؟ یا وہ خود اپنی کوئی مدد کر سکتے ہیں؟ “ یہ صرف بطور ڈانٹ ڈپٹ کے ہو گا۔

جیسے فرمان ہے آیت «وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰي كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّتَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَاءَ ظُهُوْرِكُمْ وَمَا نَرٰي مَعَكُمْ شُفَعَاءَكُمُ الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِيْكُمْ شُرَكٰؤُا لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ» [6-الأنعام:94] ‏، یعنی ” ہم تمہیں ویسے ہی تن تنہا اور ایک ایک کر کے لائیں گے جیسے ہم نے اول دفعہ پیدا کیا تھا اور جو کچھ ہم نے تمہیں یاد دلایا تھا وہ سب تم اپنے پیچھے ہی چھوڑ آئے۔ ہم تو آج تمہارے ساتھ کسی سفارشی کو بھی نہیں دیکھتے جنہیں تم شریک الٰہی ٹھیرائے ہوئے تھے۔ تم میں ان میں کوئی لگاؤ نہیں رہا اور تمہارے گمان کردہ شریک سب آج تم سے کھوئے ہوئے ہیں۔ جن پر عذاب کی بات ثابت ہو چکی “۔

یعنی شیاطین اور سرکش لوگ اور کفر کے بانی اور شرک کی طرف لوگوں کو بلانے والے یہ سب بڑے بڑے لوگ اس دن کہیں گے کہ اے اللہ ہم نے انہیں گمراہ کیا اور انہوں نے ہماری کفریہ باتیں سنیں اور مانیں جیسے ہم بہکے ہوئے تھے انہیں بھی بہکایا۔ ہم ان کی عبادت سے تیرے سامنے اپنی بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔

صفحہ نمبر6619

جیسے اور آیت میں ہے «وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّيَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّا» الخ [19-مريم:81-82] ‏، ” انہوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنالئے تاکہ وہ ان کے لیے باعث عزت بنیں لیکن ایسا نہیں ہونے کا یہ تو ان کی عبادت سے بھی انکار کر جائیں گے اور الٹے ان کے دشمن بن جائیں گے “۔

اور آیت میں ہے «وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ» الخ [46-الأحقاف:5-6] ‏، ” اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہے جو اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتا ہے جو قیامت کی گھڑی تک انہیں جواب نہ دے سکیں اور وہ ان کی پکار سے بھی غافل ہوں اور قیامت کے دن لوگوں کے حشر کے موقعہ پر ان کے دشمن بن جائیں اور اس بات سے صاف انکار کر دیں کہ انہوں نے ان کی عبادت کی تھی “۔

خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ ”تم نے جن بتوں کی پوجا پاٹ شروع کر رکھی ہے ان سے صرف دنیاکی ہی دوستی ہے قیامت کے دن تو تم سب ایک دوسرے کے منکر ہو جاؤ گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے۔‏“

اور آیت میں ہے «اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِيْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْا وَرَاَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْـبَابُ» الخ [2-البقرة:167-166] ‏، یعنی ” جو تابعداری کرنے والے تھے اور وہ ان کی پرجوش کی تابعداری کرتے رہے مگر یہ ان سے بری اور بیزار ہو جائیں گے یعنی عذابوں کو سامنے دیکھتے ہوئے سب تعلقات ٹوٹ جائیں گے “۔

ان سے فرمایا جائے گا کہ ” دنیا میں جنہیں پوجتے رہے ہو آج انہیں کیوں نہیں پکارتے؟“ اب یہ پکاریں گے لیکن کوئی جواب نہ پائیں گے اور انہیں یقین ہو جائے گا کہ یہ آگ کے عذاب میں جائیں گے اس وقت آرزو کریں گے کہ کاش ہم راہ یافتہ ہوتے؟

صفحہ نمبر6620