Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Ma'idah 5:120

5:120
لله ملك السماوات والارض وما فيهن وهو على كل شيء قدير ١٢٠
لِلَّهِ مُلْكُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا فِيهِنَّ ۚ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۢ ١٢٠
لِلَّهِ
مُلۡكُ
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضِ
وَمَا
فِيهِنَّۚ
وَهُوَ
عَلَىٰ
كُلِّ
شَيۡءٖ
قَدِيرُۢ
١٢٠
Quyền thống trị và chế ngự các tầng trời và trái đất và vạn vật trong trời đất đều thuộc về một mình Allah. Và Ngài là Đấng Toàn Năng trên tất cả mọi thứ.
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 5:119 đến 5:120
موحدین کے لیے خوش خبریاں ٭٭

حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو ان کی بات کا جو جواب قیامت کے دن ملے گا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ” آج کے دن موحدوں کو توحید نفع دے گی، وہ ہمیشگی والی جنت میں جائیں گے، وہ اللہ سے خوش ہوں گے اور اللہ ان سے خوش ہو گا، «وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللَّـهِ أَكْبَرُ» [9-التوبة:72] ‏ فی الواقع رب کی رضا مندی زبردست چیز ہے “۔

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ ان پر تجلی فرمائے گا اور ان سے کہے گا تم جو چاہو مجھ سے مانگو میں دوں گا، وہ اللہ تعالیٰ سے اس کی خوشنودی طلب کریں گے، اللہ تعالیٰ سب کے سامنے اپنی رضا مندی کا اظہار کرے گا ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1256/4:ضعیف] ‏

پھر فرماتا ہے ” یہ ایسی بے مثل کامیابی ہے جس سے بڑھ کر اور کوئی کامیابی نہیں ہو سکتی “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏لِمِثْلِ هَـٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ» ‏ [37-الصفات:61] ‏ ” اسی کیلئے عمل کرنے والوں کو عمل کی کوشش کرنی چاہیئے “۔

اور آیت میں ہے «وَفِي ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ» [83-المطففين:26] ‏ ” رغبت کرنے والے اس کی رغبت کر لیں “۔

صفحہ نمبر2524

پھر فرماتا ہے ” سب کا خالق، سب کا مالک، سب پر قادر، سب کا متصرف اللہ تعالیٰ ہی ہے، ہر چیز اسی کی ملکیت میں اسی کے قبضے میں اسی کی چاہت میں ہے، اس جیسا کوئی نہیں، نہ کوئی اس کا وزیر و مشیر ہے، نہ کوئی نظیر و عدیل ہے نہ اس کی ماں ہے، نہ باپ، نہ اولاد نہ بیوی۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں نہ کوئی اس کے سوا رب ہے “۔

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ما فرماتے ہیں۔ سب سے آخری سورت یہی سورۃ المائدہ اتری ہے۔ [سنن ترمذي:3063،قال الشيخ الألباني:-ضعیف] ‏

(‏الحمداللہ سورۃ المائدہ کی تفسیر ختم ہوئی)

صفحہ نمبر2525