Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Kahf 18:37

18:37
قال له صاحبه وهو يحاوره اكفرت بالذي خلقك من تراب ثم من نطفة ثم سواك رجلا ٣٧
قَالَ لَهُۥ صَاحِبُهُۥ وَهُوَ يُحَاوِرُهُۥٓ أَكَفَرْتَ بِٱلَّذِى خَلَقَكَ مِن تُرَابٍۢ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍۢ ثُمَّ سَوَّىٰكَ رَجُلًۭا ٣٧
قَالَ
لَهُۥ
صَاحِبُهُۥ
وَهُوَ
يُحَاوِرُهُۥٓ
أَكَفَرۡتَ
بِٱلَّذِي
خَلَقَكَ
مِن
تُرَابٖ
ثُمَّ
مِن
نُّطۡفَةٖ
ثُمَّ
سَوَّىٰكَ
رَجُلٗا
٣٧
Người bạn của y tranh luận với y, nói: “Phải chăng anh đã không có đức tin nơi Đấng đã tạo hóa ra anh từ đất bụi rồi từ tinh dịch rồi sau đó Ngài đã làm cho anh thành một người đàn ông hoàn chỉnh?!”
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 18:37 đến 18:41
احسان فراموشی مترادف کفر ہے ٭٭

اس کافر مالدار کو جو جواب اس مومن مفلس نے دیا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح اس نے وعظ و پند کی، ایمان و یقین کی ہدایت کی اور گمراہی اور غرور سے ہٹانا چاہا، فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے انسانی پیدائش مٹی سے شروع کی، پھر اس کی نسل ملے جلے پانی سے جاری رکھی جیسے آیت «كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّـهِ وَكُنتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ» [ 2- البقرة: 28 ] ‏ میں ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو؟ تم تو مردہ تھے اس نے تمہیں زندہ کیا۔ تم اس کی ذات کا، اس کی نعمتوں کا انکار کیسے کر سکتے ہو؟ اس کی نعمتوں کے، اس کی قدرتوں کے بےشمار نمونے خود تم میں اور تم پر موجود ہیں۔ کون نادان ایسا ہے جو نہ جانتا ہو کہ وہ پہلے کچھ نہ تھا اللہ نے اسے موجود کر دیا۔ وہ خودبخود اپنے ہونے پر قادر نہ تھا اللہ نے اس کا وجود پیدا کیا۔ پھر وہ انکار کے لائق کیسے ہو گیا؟ اس کی توحید الوہیت سے کون انکار کر سکتا ہے۔ میں تو تیرے مقابلے میں کھلے الفاظ میں کہہ رہا ہوں کہ میرا رب وہی اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے میں اپنے رب کے ساتھ مشرک بننا ناپسند کرتا ہوں۔ پھر اپنے ساتھی کو نیک رغبت دلانے کے لیے کہتا ہے کہ اپنی لہلہاتی ہوئی کھیتی اور ہرے بھرے میووں سے لدے باغ کو دیکھ کر تو اللہ کا شکر کیوں نہیں کرتا؟ کیوں «مَا شَاءَ اللَّه لَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» نہیں کہتا؟ اسی آیت کو سامنے رکھ کر بعض سلف کا مقولہ ہے کہ جسے اپنی اولاد یا مال یا حال پسند آئے اسے یہ کلمہ پڑھ لینا چاہیئے۔

ابو یعلیٰ موصلی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «مَا أَنْعَمَ اللَّه عَلَى عَبْد نِعْمَة مِنْ أَهْل أَوْ مَال أَوْ وَلَد فَيَقُول مَا شَاءَ اللَّه لَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ فَيُرَى فِيهِ آفَة دُون الْمَوْت» جس بندے پر اللہ اپنی کوئی نعمت انعام فرمائے، اہل و عیال ہوں، دولتمندی ہو، فرزند ہوں، پھر وہ اس کلمہ کو کہہ لے تو اس میں کوئی آنچ نہ آئے گی سوائے موت کے، پھر آپ اس آیت «وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ إِن تَرَنِ أَنَا أَقَلَّ مِنكَ مَالًا وَوَلَدًا» [ 39: الكهف ] ‏ کی تلاوت کرتے۔ [البدایة و النھایة141/2:ضعیف] ‏ حافظ ابو الفتح کہتے ہیں یہ حدیث صحیح نہیں۔

صفحہ نمبر4896

مسند احمد، صحیح البخاری، صحیح مسلم میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا میں تمہیں جنت کا ایک خزانہ بتا دوں؟ وہ خزانہ «لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» کہنا ہے۔ [صحیح بخاری:6384] ‏ اور روایت میں ہے کہ اللہ فرماتا ہے میرے اس بندے نے مان لیا اور اپنا معاملہ میرے سپرد کر دیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پھر پوچھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، صرف لاحول نہیں بلکہ وہ جو سورۃ الکہف میں ہے یعنی «مَا شَاءَ اللَّه لَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» ۔ [مسند احمد:335/2:صحیح] ‏ پھر فرمایا کہ اس نیک شخص نے کہا کہ مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ مجھے آخرت کے دن اس سے بہتر نعمتیں عطا فرمائے اور تیرے اس باغ کو جسے تو ہمیشگی والا سمجھے بیٹھا ہے، تباہ کر دے۔ آسمان سے اس پر عذاب بھیج دے۔ زور کی بارش آندھی کے ساتھ آئے۔ تمام کھیت اور باغ اجڑ جائیں۔ سوکھی صاف زمین رہ جائے گویا کہ کبھی یہاں کوئی چیز اگی ہی نہ تھی۔ یا اس کی نہروں کا پانی دھنسا دے۔ «غَوْرً» مصدر ہے معنی میں «غائر» کے بطور مبالغے کے لایا گیا ہے۔

صفحہ نمبر4897