Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Jinn 72:14

72:14
وانا منا المسلمون ومنا القاسطون فمن اسلم فاولايك تحروا رشدا ١٤
وَأَنَّا مِنَّا ٱلْمُسْلِمُونَ وَمِنَّا ٱلْقَـٰسِطُونَ ۖ فَمَنْ أَسْلَمَ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ تَحَرَّوْا۟ رَشَدًۭا ١٤
وَأَنَّا
مِنَّا
ٱلۡمُسۡلِمُونَ
وَمِنَّا
ٱلۡقَٰسِطُونَۖ
فَمَنۡ
أَسۡلَمَ
فَأُوْلَٰٓئِكَ
تَحَرَّوۡاْ
رَشَدٗا
١٤
“Quả thật, trong số chúng ta có những người Muslim (phục tùng Allah) và trong chúng ta cũng có những người lầm lạc. Vì vậy, những ai thần phục (Allah) thì họ đã tìm thấy con đường đúng đắn.”
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 72:13 đến 72:17
باب

پھر کہتے ہیں مومن کے نہ تو عمل نیک ضائع ہوں، نہ اس پر خواہ مخواہ کی برائیاں لا دی جائیں، جیسے اور جگہ ہے «فَلَا يَخٰفُ ظُلْمًا وَّلَا هَضْمًا» [20-طه:112] ‏ یعنی ” نیک مومن کو ظلم و نقصان کا ڈر نہیں “۔

پھر کہتے ہیں ہم میں بعض تو مسلمان ہیں اور بعض حق سے ہٹے ہوئے عدل کو چھوڑے ہوئے ہیں۔ مسلمان تو نجات کے متلاشی ہیں اور ظالم جہنم کی لکڑیاں ہیں۔ اس کے بعد کی آیت «‏وَّاَنْ لَّوِ اسْتَــقَامُوْا عَلَي الطَّرِيْقَةِ لَاَسْقَيْنٰهُمْ مَّاءً غَدَقًا» ‏ [72- الجن:16] ‏، کے دو مطلب بیان کئے گئے ہیں ایک تو یہ کہ اگر تمام لوگ اسلام پر اور راہ راست پر اور اطاعت الٰہی پر جم جاتے تو ہم ان پر بکثرت بارشیں برساتے اور خوب وسعت سے روزی دیتے۔

جیسے اور جگہ ہے «وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ سَاءَ مَا يَعْمَلُوْنَ» [5-المائدة:66] ‏ یعنی ” اگر یہ توراۃ وانجیل اور آسمانی کتابوں پر سیدھے اترتے تو انہیں آسمان و زمین سے روزیاں ملتیں “۔

اور فرمان ہے «‏وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ» [7-الأعراف:96] ‏، یعنی ” اگر بستی والے ایمان لاتے متقی بن جاتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتیں کھول دیتے یہ اس لیے کہ ان کی پختہ جانچ ہو جائے کہ ہدایت پر کون جما رہتا ہے اور کون پھر سے گمراہی کی طرف لوٹ جاتا ہے “۔

مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ آیت کفار قریش کے بارے میں اتری ہے جبکہ ان پر سات سال کا قحط پڑا تھا“، دوسرا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر یہ سب کے سب گمراہی پر جم جاتے تو ان پر رزق کے دروازے کھول دیئے جاتے تاکہ یہ خوب مست ہو جائیں اور اللہ کو بالکل بھول جائیں اور بدترین سزاؤں کے قابل ہو جائیں۔

جیسے فرمان باری ہے «فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ» [6-الأنعام:44] ‏، یعنی ” جب وہ نصیحتیں بھلا بیٹھے تو ہم نے بھی ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے جس وہ مست بن گئے کہ ناگہاں ہم نے انہیں پکڑ لیا اور وہ مایوس ہو گئے “۔

اسی طرح کی آیت «‏اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَل لَّا يَشْعُرُونَ نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَل لَّا يَشْعُرُونَ» [23-المؤمنون:56-55] ‏، بھی ہے۔

پھر فرماتا ہے ” جو بھی اپنے رب کے ذکر سے بے پرواہی برتے اس کا رب اسے درد ناک سخت اور مہلک عذابوں میں مبتلا کرتا ہے “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ «صَعَدًا» جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں جہنم کے ایک کنوئیں کا نام ہے۔

صفحہ نمبر9898