Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Hajj 22:73

22:73
يا ايها الناس ضرب مثل فاستمعوا له ان الذين تدعون من دون الله لن يخلقوا ذبابا ولو اجتمعوا له وان يسلبهم الذباب شييا لا يستنقذوه منه ضعف الطالب والمطلوب ٧٣
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌۭ فَٱسْتَمِعُوا۟ لَهُۥٓ ۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ لَن يَخْلُقُوا۟ ذُبَابًۭا وَلَوِ ٱجْتَمَعُوا۟ لَهُۥ ۖ وَإِن يَسْلُبْهُمُ ٱلذُّبَابُ شَيْـًۭٔا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ۚ ضَعُفَ ٱلطَّالِبُ وَٱلْمَطْلُوبُ ٧٣
يَٰٓأَيُّهَا
ٱلنَّاسُ
ضُرِبَ
مَثَلٞ
فَٱسۡتَمِعُواْ
لَهُۥٓۚ
إِنَّ
ٱلَّذِينَ
تَدۡعُونَ
مِن
دُونِ
ٱللَّهِ
لَن
يَخۡلُقُواْ
ذُبَابٗا
وَلَوِ
ٱجۡتَمَعُواْ
لَهُۥۖ
وَإِن
يَسۡلُبۡهُمُ
ٱلذُّبَابُ
شَيۡـٔٗا
لَّا
يَسۡتَنقِذُوهُ
مِنۡهُۚ
ضَعُفَ
ٱلطَّالِبُ
وَٱلۡمَطۡلُوبُ
٧٣
Hỡi nhân loại! Hình ảnh thí dụ được trình bày cho các ngươi, các ngươi hãy lắng nghe cho kỹ! Quả thật, những kẻ mà các ngươi khấn vái ngoài Allah sẽ không bao giờ tạo ra được một con ruồi cho dù chúng có hợp sức lại với nhau để làm chuyện đó đi chăng nữa; và nếu con ruồi nào đó giật lấy món gì của chúng thì chúng cũng sẽ không thể giành lại được. Kẻ khấn vái cũng như kẻ được khấn vái đều bất lực.
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 22:73 đến 22:74
کم عقل پجاری ٭٭

اللہ کے ماسوا جن کے عبادت کی جاتی ہے ان کی کمزوری اور ان کے پجاریوں کی کم عقلی بیان ہو رہی ہے کہ ” اے لوگو! یہ جاہل جس جس کی بھی اللہ کے سوا عبادت کرتے ہیں، رب کے ساتھ یہ جو شرک کرتے ہیں، ان کی ایک مثال نہایت عمدہ اور بالکل واقعہ کے مطابق بیان ہو رہی ہے ذرا توجہ سے سنو۔ کہ ان کے تمام کے تمام بت، بزرگ وغیرہ جنہیں یہ اللہ کا شریک ٹھہرا رہے ہیں، جمع ہو جائیں اور ایک مکھی بنانا چاہیں تو سارے عاجز آ جائیں گے اور ایک مکھی بھی پیدا نہ کر سکیں گے “۔

مسند احمد کی حدیث قدسی میں فرمان الٰہی ہے اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو میری طرح کسی کو بنانا چاہتا ہے۔ اگر واقعی میں کسی کو یہ قدرت حاصل ہے تو ایک ذرہ، ایک مکھی یا ایک دانہ اناج کا ہی خود بنادیں ۔ [مسند احمد:391/2:صحیح] ‏

بخاری و مسلم میں الفاظ یوں ہیں کہ ” وہ ایک ذرہ یا ایک جو ہی بنادیں “۔ [صحیح بخاری:5953] ‏

اچھا اور بھی ان کے معبودان باطل کی کمزوری اور ناتوانی سنو کہ ” یہ ایک مکھی کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتے وہ ان کا حق ان کی چیز ان سے چھینے چلی جا رہی ہے، یہ بے بس ہیں، یہ بھی تو نہیں کر سکتے کہ اس سے اپنی چیز ہی واپس لے لیں بھلا مکھی جیسی حقیر اور کمزور مخلوق سے بھی جو اپنا حق نہ لے سکے اس سے بھی زیادہ کمزور، بودا ضعیف ناتوان بے بس اور گرا پڑا کوئی اور ہوسکتا ہے؟ “

ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”طالب“ سے مراد بت اور ”مطلوب“ سے مراد مکھی ہے۔ امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بھی اسی کو پسند کرتے ہیں اور ظاہر لفظوں سے بھی یہی ظاہر ہے۔

دوسرا مطلب یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ طالب سے مراد عابد اور مطلوب سے مراد اللہ کے سوا اور معبود۔ اللہ کی قدروعظمت ہی ان کے دلوں میں نہیں رچی اگر ایسا ہوتا تو اتنے بڑے توانا اللہ کے ساتھ ایسی ذلیل مخلوق کو کیوں شریک کر لیتے۔ جو مکھی اڑانے کی بھی قدرت نہیں رکھتی جیسے مشرکین قریش کے بت تھے۔ اللہ اپنی قدرت وقوت میں یکتا ہے تمام چیزیں بے نمونہ «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» [30-الروم:27] ‏ ” سب سے پہلی پیدائش میں اس نے پیدا کر دی ہیں کسی ایک سے بھی مدد لیے بغیر پھر سب کو ہلاک کر کے دوبارہ اس سے بھی زیادہ آسانی سے پیدا کرنے پر قادر ہے “۔

«إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ إِنَّهُ هُوَ يُبْدِئُ وَيُعِيدُ» [85-البروج:13-12] ‏ ” وہ بڑی مضبوط پکڑ والا، ابتداء اور اعادہ کرنے والا “، «إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ» [51-الذاريات:58] ‏ ” رزق دینے والا، اور بے انداز قوت رکھنے والا ہے “، ” سب کچھ اس کے سامنے پست ہے، کوئی اس کے ارادے کو بدلنے والا، اس کے فرمان کو ٹالنے والا اس کی عظمت اور سلطنت کا مقابلہ کرنے والا نہیں، وہ واحد قہار ہے “۔

صفحہ نمبر5669