Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Hajj 22:34

22:34
ولكل امة جعلنا منسكا ليذكروا اسم الله على ما رزقهم من بهيمة الانعام فالاهكم الاه واحد فله اسلموا وبشر المخبتين ٣٤
وَلِكُلِّ أُمَّةٍۢ جَعَلْنَا مَنسَكًۭا لِّيَذْكُرُوا۟ ٱسْمَ ٱللَّهِ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّنۢ بَهِيمَةِ ٱلْأَنْعَـٰمِ ۗ فَإِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌۭ وَٰحِدٌۭ فَلَهُۥٓ أَسْلِمُوا۟ ۗ وَبَشِّرِ ٱلْمُخْبِتِينَ ٣٤
وَلِكُلِّ
أُمَّةٖ
جَعَلۡنَا
مَنسَكٗا
لِّيَذۡكُرُواْ
ٱسۡمَ
ٱللَّهِ
عَلَىٰ
مَا
رَزَقَهُم
مِّنۢ
بَهِيمَةِ
ٱلۡأَنۡعَٰمِۗ
فَإِلَٰهُكُمۡ
إِلَٰهٞ
وَٰحِدٞ
فَلَهُۥٓ
أَسۡلِمُواْۗ
وَبَشِّرِ
ٱلۡمُخۡبِتِينَ
٣٤
TA đã quy định cho mỗi cộng đồng một nghi thức giết tế để họ có thể tụng niệm tên của Allah trên những con vật nuôi mà Ngài đã ban cấp cho họ dùng làm thực phẩm. Nhưng (các ngươi – hỡi nhân loại – hãy biết rằng) Thượng Đế của các ngươi chỉ là một Thượng Đế duy nhất, cho nên, các ngươi hãy thần phục Ngài; và Ngươi (hỡi Thiên Sứ Muhammad) hãy báo tin mừng cho những người một lòng sợ (Ngài).
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 22:34 đến 22:35
قربانی ہر امت پر فرض قرار دی گئی ٭٭

فرمان ہے کہ ” کل امتوں میں ہر مذہب میں ہر گروہ کو ہم نے قربانی کا حکم دیا تھا۔ ان کے لیے ایک دن عید کا مقرر تھا۔ وہ بھی اللہ کے نام ذبیحہ کرتے تھے “۔ سب کے سب مکے شریف میں اپنی قربانیاں بھیجتے تھے۔ تاکہ قربانی کے چوپائے جانوروں کے ذبح کرنے کے وقت اللہ کا نام ذکر کریں۔

حضور علیہ السلام کے پاس دو مینڈھے چتکبرے بڑے بڑے سینگوں والے لائے گئے آپ نے انہیں لٹا کر ان کی گردن پر پاؤں رکھ کر بسم اللہ واللہ اکبر پڑھ کر ذبح کیا ۔ [صحیح بخاری:5564] ‏

مسند احمد میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ۔ پوچھا ہمیں اس میں کیا ملتا ہے؟ فرمایا: ہر بال کے بدلے ایک نیکی ۔ دریافت کیا اور“اون“ کا کیا حکم ہے؟ فرمایا: ان کے روئیں کے بدلے ایک نیکی ۔ [سنن ابن ماجہ:3127،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ اسے امام ابن جریر رحمتہ اللہ بھی لائے ہیں۔

تم سب کا اللہ ایک ہے گو شریعت کے بعض احکام ادل بدل ہوتے رہے لیکن توحید میں، اللہ کی یگانگت میں، کسی رسول کو کسی نیک امت کو اختلاف نہیں ہوا۔ اور آیت میں ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» [21-الانبیاء:25] ‏ ” تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرو “۔

سب اللہ کی توحید، اسی کی عبادت کی طرف تمام جہان کو بلاتے رہے۔ سب پر اول وحی یہی نازل ہوتی رہی۔ پس تم سب اس کی طرف جھک جاؤ، اس کے ہو کر رہو، اس کے احکام کی پابندی کرو، اس کی اطاعت میں استحکام کرو۔ جو لوگ مطمئن ہیں، جو متواضع ہیں، جو تقوے والے ہیں، جو ظلم سے بیزار ہیں، مظلومی کی حالت میں بدلہ لینے کے خوگر نہیں، مرضی مولا، رضائے رب پر راضی ہیں انہیں خوشخبریاں سنا دیں، وہ مبارکباد کے قابل ہیں۔ جو ذکر الٰہی سنتے ہیں دل نرم، اور خوف الٰہی سے پر کر کے رب کی طرف جھک جاتے ہیں، کٹھن کاموں پر صبر کرتے ہیں، مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں۔ امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”واللہ اگر تم نے صبر وبرداشت کی عادت نہ ڈالی تو تم برباد کر دیئے جاؤ گے۔‏“ «وَالْمُقِيمِي» کی قرأت اضافت کے ساتھ تو جمہور کی ہے۔ لیکن ابن سمیفع نے «وَالْمُقِيمِي» پڑھا ہے اور «الصَّلَوٰةِ» کا زبر پڑھا ہے۔ امام حسن نے پڑھا تو ہے نون کے حذف اور اضافت کے ساتھ لیکن «الصَّلَوٰةِ» کا زبر پڑھا ہے اور فرماتے ہیں کہ نون کا حذف یہاں پر بوجہ تخفیف کے ہے کیونکہ اگر بوجہ اضافت مانا جائے تو اس کا زبر لازم ہے۔ اور ہوسکتا ہے کہ بوجہ قرب کے ہو۔

مطلب یہ ہے کہ فریضہ الٰہی کے پابند ہیں اور اللہ کا حق ادا کرنے والے ہیں اور اللہ کا دیا ہوا دیتے رہتے ہیں، اپنے گھرانے کے لوگوں کو، فقیروں محتاجوں کو اور تمام مخلوق کو جو بھی ضرورت مند ہوں سب کے ساتھ سلوک و احسان سے پیش آتے ہیں۔ اللہ کی حدود کی حفاظت کرتے ہیں منافقوں کی طرح نہیں کہ ایک کام کریں تو ایک کو چھوڑیں۔ سورۃ براۃ میں بھی یہی صفتیں بیان فرمائی ہیں اور وہیں پوری تفسیر بھی بحمدللہ ہم کر آئے ہیں۔ «فَلِلَّهِ الْحَمْدُ وَالْمِنَّةُ»

صفحہ نمبر5606