Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Furqan 25:42

25:42
ان كاد ليضلنا عن الهتنا لولا ان صبرنا عليها وسوف يعلمون حين يرون العذاب من اضل سبيلا ٤٢
إِن كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنْ ءَالِهَتِنَا لَوْلَآ أَن صَبَرْنَا عَلَيْهَا ۚ وَسَوْفَ يَعْلَمُونَ حِينَ يَرَوْنَ ٱلْعَذَابَ مَنْ أَضَلُّ سَبِيلًا ٤٢
إِن
كَادَ
لَيُضِلُّنَا
عَنۡ
ءَالِهَتِنَا
لَوۡلَآ
أَن
صَبَرۡنَا
عَلَيۡهَاۚ
وَسَوۡفَ
يَعۡلَمُونَ
حِينَ
يَرَوۡنَ
ٱلۡعَذَابَ
مَنۡ
أَضَلُّ
سَبِيلًا
٤٢
“Quả thật, suýt nữa thì Y đã làm cho bọn mình từ bỏ những thần linh của bọn mình mất rồi nếu như bọn mình không thực sự kiên trì với các đấng ấy.” Rồi đây khi đối diện với sự trừng phạt thì họ sẽ biết ai thực sự mới là kẻ đã lầm lạc.
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 25:41 đến 25:44
انبیاء کا مذاق ٭٭

کافر لوگ اللہ کے برتر و بہتر پیغمبر احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر ہنسی مذاق اڑاتے تھے، عیب جوئی کرتے تھے اور آپ میں نقصان بتاتے تھے۔ یہی حالت ہر زمانے کے کفار کی اپنے نبیوں کے ساتھ رہی۔

جیسے فرمان ہے «وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاق بالَّذِيْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ» [13-الرعد:32] ‏ ” تجھ سے پہلے کے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ “

کہنے لگے: وہ تو کہئے کہ ہم جمے رہے ورنہ اس رسول نے ہمیں بہکانے میں کوئی کمی نہ رکھی تھی۔ اچھا عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ ہدایت پر یہ کہاں تک تھے؟ عذابوں کو دیکھتے ہی آنکھیں کھل جائیں گی۔ اصل یہ ہے کہ ان لوگوں نے خواہش پرستی شروع کر رکھی ہے۔ نفس و شیطان جس چیز کو اچھا ظاہر کرتا ہے، یہ بھی اسے اچھی سمجھنے لگتے ہیں۔ بھلا ان کا ذمہ دار تو کیسے ٹھہر سکتا ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ جاہلیت میں عرب کی یہ حالت تھی کہ جہاں کسی سفید گول مول پتھر کو دیکھا، اس کے سامنے جھکنے اور سجدے کرنے لگے۔ اس سے اچھا کوئی نظر پڑ گیا تو اس کے سامنے جھک گئے۔ اور اول کو چھوڑ دیا۔ پھر فرماتا ہے: یہ تو چوپایوں سے بھی بدتر ہیں۔ نہ ان کے کان ہیں، نہ دل ہیں۔ چوپائے تو خیر قدرتاً آزاد ہیں لیکن یہ جو عبادت کے لیے پیدا کیے گئے تھے، یہ ان سے بھی زیادہ بہک گئے بلکہ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے۔ اور قیام حجت کے بعد، رسولوں کے پہنچ چکنے کے بعد بھی اللہ کی طرف نہیں جھکتے۔ اس کی توحید اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو نہیں مانتے۔

صفحہ نمبر6065