Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Fath 48:17

48:17
ليس على الاعمى حرج ولا على الاعرج حرج ولا على المريض حرج ومن يطع الله ورسوله يدخله جنات تجري من تحتها الانهار ومن يتول يعذبه عذابا اليما ١٧
لَّيْسَ عَلَى ٱلْأَعْمَىٰ حَرَجٌۭ وَلَا عَلَى ٱلْأَعْرَجِ حَرَجٌۭ وَلَا عَلَى ٱلْمَرِيضِ حَرَجٌۭ ۗ وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ يُدْخِلْهُ جَنَّـٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ ۖ وَمَن يَتَوَلَّ يُعَذِّبْهُ عَذَابًا أَلِيمًۭا ١٧
لَّيۡسَ
عَلَى
ٱلۡأَعۡمَىٰ
حَرَجٞ
وَلَا
عَلَى
ٱلۡأَعۡرَجِ
حَرَجٞ
وَلَا
عَلَى
ٱلۡمَرِيضِ
حَرَجٞۗ
وَمَن
يُطِعِ
ٱللَّهَ
وَرَسُولَهُۥ
يُدۡخِلۡهُ
جَنَّٰتٖ
تَجۡرِي
مِن
تَحۡتِهَا
ٱلۡأَنۡهَٰرُۖ
وَمَن
يَتَوَلَّ
يُعَذِّبۡهُ
عَذَابًا
أَلِيمٗا
١٧
Người mù, người què, và người bệnh không có tội (nếu không tham gia chinh chiến). Người nào tuân lệnh Allah và Sứ Giả của Ngài thì sẽ được thu nhận vào Các Ngôi Vườn Thiên Đàng bên dưới có các dòng sông chảy, còn người nào quay lưng thì Ngài sẽ trừng phạt kẻ đó bằng một sự trừng phạt đau đớn.
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 48:16 đến 48:17
باب

وہ سخت لڑاکا قوم جن سے لڑنے کی طرف یہ بلائے جائیں گے کون سی قوم ہے؟ اس میں کئی اقوال ہیں ایک تو یہ کہ اس سے مراد قبیلہ ہوازن ہے، دوسرے یہ کہ اس سے مراد قبیلہ ثقیف ہے، تیسرے یہ کہ اس سے مراد قبیلہ بنو حنیفہ ہے، چوتھے یہ کہ اس سے مراد اہل فارس ہیں، پانچویں یہ کہ اس سے مراد رومی ہیں، چھٹے یہ کہ اس سے مراد بت پرست ہیں۔

بعض فرماتے ہیں اس سے مراد کوئی خاص قبیلہ یا گروہ نہیں بلکہ مطلق جنگجو قوم مراد ہے جو ابھی تک مقابلہ میں نہیں آئی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے مراد کرد لوگ ہیں۔

صفحہ نمبر8591

ایک مرفوع حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”قیامت قائم نہ ہو گی جب تک کہ تم ایک ایسی قوم سے نہ لڑو جن کی آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہوں گی اور ناک بیٹھی ہوئی ہو گی ان کے منہ مثل تہہ بہ تہہ ڈھالوں کے ہوں گے۔‏“ [صحیح بخاری:2928] ‏

سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد ترک ہیں ایک حدیث میں ہے کہ تمہیں ایک قوم سے جہاد کرنا پڑے گا جن کی جوتیاں بال دار ہوں گی، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے مراد کرد لوگ ہیں ۔

پھر فرماتا ہے کہ ان سے جہاد قتال تم پر مشروع کر دیا گیا ہے اور یہ حکم باقی رہے گا اللہ تعالیٰ ان پر تمہاری مدد کرے گا یا یہ کہ وہ خودبخود بغیر لڑے بھڑے دین اسلام قبول کر لیں گے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے اگر تم مان لو گے اور جہاد کے لیے اٹھ کھڑے ہو جاؤ گے اور حکم کی بجا آوری کرو گے تو تمہیں بہت ساری نیکیاں ملیں گی اور اگر تم نے وہی کیا جو حدیبیہ کے موقع پر کیا تھا یعنی بزدلی سے بیٹھے رہے جہاد میں شرکت نہ کی احکام کی تعمیل سے جی چرایا تو تمہیں المناک عذاب ہو گا۔ پھر جہاد کے ترک کرنے کے جو صحیح عذر ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے پس دو عذر تو وہ بیان فرمائے جو لازمی ہیں یعنی اندھا پن اور لنگڑا پن اور ایک عذر وہ بیان فرمایا جو عارضی ہے جیسے بیماری کہ چند دن رہی پھر چلی گئی۔

صفحہ نمبر8592

پس یہ بھی اپنی بیماری کے زمانہ میں معذور ہیں ہاں تندرست ہونے کے بعد یہ معذور نہیں پھر جہاد کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانبردار جنتی ہے اور جو جہاد سے بے رغبتی کرے اور دنیا کی طرف سراسر متوجہ ہو جائے، معاش کے پیچھے معاد کو بھول جائے اس کی سزا دنیا میں ذلت اور آخرت کی دکھ مار ہے۔

صفحہ نمبر8593