Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tazkir ul Quran Tafsir: Al-Baqarah Ayah 8

2:8
ومن الناس من يقول امنا بالله وباليوم الاخر وما هم بمومنين ٨
وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَقُولُ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَبِٱلْيَوْمِ ٱلْـَٔاخِرِ وَمَا هُم بِمُؤْمِنِينَ ٨
وَمِنَﱜ
ٱلنَّاسِﱝ
مَنﱞ
يَقُولُﱟ
ءَامَنَّاﱠ
بِٱللَّهِﱡ
وَبِٱلۡيَوۡمِﱢ
ٱلۡأٓخِرِﱣ
وَمَاﱤ
هُمﱥ
بِمُؤۡمِنِينَﱦ
٨ﱧ
Trong nhân loại, có người nói chúng tôi đã tin vào Allah và Đời Sau, nhưng thực chất họ không hề tin gì cả.
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 2:8 đến 2:10

عرب کے لوگوں نے شرک کو سچائی سمجھ کر اختیار کر رکھا تھا۔پیغمبر کی دعوتِ توحید سے شرک کو ماننے والوں کے عقائد متزلزل ہوئے تو اس میں ان لوگوں کو خطرہ محسوس ہونے لگا جو شرک کی زمین پر اپنی سرداری قائم کيے ہوئے تھے۔ ایک عام آدمی کے ليے شرک کو چھوڑنا صرف اپنے آبائی دین کو چھوڑنا ہوتا ہے۔ جب کہ ایک سردار کے ليے شرک کا خاتمہ اس کی سرداری کے خاتمہ کے ہم معنی ہے۔ اس ليے ہر دور میں بے آمیز دین کی دعوت کے سب سے زیادہ مخالف وہ لوگ بن جاتے ہیں جو ملاوٹی دین کی بنیاد پر اپنی قیادت قائم کيے ہوئے ہوں۔

یہ لوگ حق کی دعوت اور اس کے داعی کے بارے میں لایعنی بحثیں پیدا کرتے ہیں۔ وہ کوشش کرتے ہیں کہ ان کے زیر اثر عوام دعوت کے بارے میں مشتبہ ہوجائیں۔ اور بدستور اپنے رواجی دین پر قائم رہیں۔

حق کی یہ مخالفت وہ صرف اس ليے کرتے ہیں کہ خود ساختہ دین کی بنیاد پر انھوں نے جو اپنی جھوٹی بڑائی قائم کررکھی ہے، وہ بدستور قائم رہے۔ ان کو سچائی سے زیادہ اپنی ذات سے دلچسپی ہوتی ہے۔ ایسے لوگ خدا کے نزدیک بہت بڑے مجرم ہیں۔ قیامت میں ا ن کے حصہ میں رسوائی اور عذاب کے سوا کچھ آنے والا نہیں۔