Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Baqarah 2:209

2:209
فان زللتم من بعد ما جاءتكم البينات فاعلموا ان الله عزيز حكيم ٢٠٩
فَإِن زَلَلْتُم مِّنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ ٱلْبَيِّنَـٰتُ فَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ٢٠٩
فَإِن
زَلَلۡتُم
مِّنۢ
بَعۡدِ
مَا
جَآءَتۡكُمُ
ٱلۡبَيِّنَٰتُ
فَٱعۡلَمُوٓاْ
أَنَّ
ٱللَّهَ
عَزِيزٌ
حَكِيمٌ
٢٠٩
Nếu như các ngươi trượt chân (khỏi chân lý) sau khi các bằng chứng đã đến với các ngươi một cách rõ ràng thì các ngươi hãy biết rằng Allah là Đấng Toàn Năng, Đấng Sáng Suốt.
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 2:208 đến 2:209
مکمل اطاعت ہی مقصود ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے اوپر ایمان لانے والوں اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرنے والوں سے ارشاد فرماتا ہے کہ وہ کل احکام کو بجا لائیں کل ممنوعات سے بچ جائیں کامل شریعت پر عمل کریں سلم سے مراد سلام ہے اطاعت اور صلح جوئی بھی مراد ہے «کافۃ» کے معنی سب کے سب پورے پورے، عکرمہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ سیدنا عبداللہ بن سلام اسد بن عبید ثقلیہ رضی اللہ عنہما وغیرہ جو یہود سے مسلمان ہوئے تھے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کی ہمیں ہفتہ کے دن کی عزت اور راتوں کے وقت توراۃ پر عمل کرنے کی اجازت دی جائے جس پر یہ آیت اتری کہ اسلامی احکام پر عمل کرتے رہو، لیکن اس میں عبداللہ کا نام کچھ ٹھیک نہیں ہے معلوم ہوتا ہے وہ اعلیٰ عالم تھے اور پورے مسلمان تھے انہیں مکمل طور پر معلوم تھا کہ ہفتہ کے دن کی عزت منسوخ ہو چکی ہے اس کے بجائے اسلامی عید جمعہ کے دن کی مقرر ہو چکی ہے پھر ناممکن ہے کہ وہ ایسی خواہش میں اوروں کا ساتھ دیں،

بعض مفسرین نے «کافۃ» کو حال کہا ہے یعنی تم سب کے سب اسلام میں داخل ہو جاؤ، لیکن پہلی بات زیادہ صحیح ہے یعنی اپنی طاقت بھر اسلام کے کل احکام کو مانو، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ بعض اہل کتاب باوجود ایمان لانے کے توراۃ کے بعض احکام پر جمے ہوئے تھے ان سے کہا جاتا ہے کہ محمدی دین میں پوری طرح آ جاؤ اس کا کوئی عمل نہ چھوڑو توراۃ پر صرف ایمان رکھنا کافی ہے۔ پھر فرمان ہے کہ «إِنَّمَا يَأْمُرُكُم بِالسُّوءِ وَالْفَحْشَاءِ وَأَن تَقُولُوا عَلَى اللَّـهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ» [ البقرہ: 169 ] ‏ اللہ کی اطاعت کرتے رہو شیطان کی نہ مانو وہ تو برائیوں اور بدکاریوں کو اور اللہ پر بہتان باندھنے کو اکساتا ہے۔ «إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ» [ 35-فاطر: 6 ] ‏ اس کی اور اس کے گروہ کی تو خواہش یہ ہے کہ تم جہنمی بن جاؤ وہ تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے۔ اگر تم دلائل معلوم کرنے کے بعد بھی حق سے ہٹ جاؤ تو جان رکھو کہ اللہ بھی بدلہ لینے میں غالب ہے نہ اس سے کوئی بھاگ کر بچ سکے نہ اس پر کوئی غالب ہے اپنی پکڑ میں وہ حکیم ہے اپنے امر میں وہ کفار پر غلبہ رکھتا ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:591/2] ‏ اور عذروحجت کو کاٹ دینے میں حکمت رکھتا ہے۔

صفحہ نمبر747