Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-A'raf 7:89

7:89
قد افترينا على الله كذبا ان عدنا في ملتكم بعد اذ نجانا الله منها وما يكون لنا ان نعود فيها الا ان يشاء الله ربنا وسع ربنا كل شيء علما على الله توكلنا ربنا افتح بيننا وبين قومنا بالحق وانت خير الفاتحين ٨٩
قَدِ ٱفْتَرَيْنَا عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا إِنْ عُدْنَا فِى مِلَّتِكُم بَعْدَ إِذْ نَجَّىٰنَا ٱللَّهُ مِنْهَا ۚ وَمَا يَكُونُ لَنَآ أَن نَّعُودَ فِيهَآ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ رَبُّنَا ۚ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَىْءٍ عِلْمًا ۚ عَلَى ٱللَّهِ تَوَكَّلْنَا ۚ رَبَّنَا ٱفْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِٱلْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ ٱلْفَـٰتِحِينَ ٨٩
قَدِ
ٱفۡتَرَيۡنَا
عَلَى
ٱللَّهِ
كَذِبًا
إِنۡ
عُدۡنَا
فِي
مِلَّتِكُم
بَعۡدَ
إِذۡ
نَجَّىٰنَا
ٱللَّهُ
مِنۡهَاۚ
وَمَا
يَكُونُ
لَنَآ
أَن
نَّعُودَ
فِيهَآ
إِلَّآ
أَن
يَشَآءَ
ٱللَّهُ
رَبُّنَاۚ
وَسِعَ
رَبُّنَا
كُلَّ
شَيۡءٍ
عِلۡمًاۚ
عَلَى
ٱللَّهِ
تَوَكَّلۡنَاۚ
رَبَّنَا
ٱفۡتَحۡ
بَيۡنَنَا
وَبَيۡنَ
قَوۡمِنَا
بِٱلۡحَقِّ
وَأَنتَ
خَيۡرُ
ٱلۡفَٰتِحِينَ
٨٩
“Chắc chắn chúng tôi (sẽ là những kẻ) đã đặt điều nói dối cho Allah nếu chúng tôi trở lại tín ngưỡng của các người sau khi Allah đã cứu chúng tôi khỏi nó. Chúng tôi không trở lại với nó trừ phi Allah – Thượng Đế của chúng tôi muốn (khác đi). Thượng Đế của chúng tôi có kiến thức bao trùm tất cả mọi thứ, chúng tôi nguyện phó thác cho Ngài. Lạy Thượng Đế của bầy tôi, xin Ngài hãy phân xử giữa bầy tôi và đám dân của bầy tôi bằng công lý, bởi Ngài là Đấng phân xử ưu việt nhất.”
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 7:88 đến 7:89
شعیب علیہ السلام کی قوم نے اپنی بربادی کو آواز دی ٭٭

شعیب علیہ السلام کی قوم نے آپ کی تمام نصیحتیں سن کر جو جواب دیا، اس کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ ہوا یہ کہ دلیلوں سے ہار کر یہ لوگ اپنی قوت جتانے پر اتر آئے اور کہنے لگے: اب تجھے اور تیرے ساتھیوں کو ہم دو باتوں میں سے ایک کا اختیار دیتے ہیں یا تو جلا وطنی قبول کرو یا ہمارے مذہب میں آ جاؤ۔ جس پر آپ نے فرمایا کہ ہم تو دل سے تمہارے ان مشرکانہ کاموں سے بیزار ہیں۔ انہیں سخت ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ پھر تمہارے اس دباؤ اور اس خواہش کے کیا معنی؟

اگر اللہ نہ کرے، ہم پھر سے تمہارے کفر میں شامل ہو جائیں تو ہم سے بڑھ کر گناہگار کون ہو گا؟ اس کے تو صاف معنی یہ ہیں کہ ہم نے دو گھڑی پہلے محض ایک ڈھونگ رچایا تھا۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اور بہتان باندھ کر نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ خیال فرمائیے کہ اس جواب میں اللہ کے نبی علیہ السلام نے ایمان داروں کو مرتد ہونے سے کس طرح دھمکایا ہے؟ لیکن چونکہ انسان کمزور ہے۔ نہ معلوم کس کا دل کیسا ہے اور آگے چل کر کیا ظاہر ہونے والا ہے؟ اس لیے فرمایا کہ اللہ کے ہاتھ سب کچھ ہے۔ اگر وہی کسی کے خیالات الٹ دے تو میرا زور نہیں۔ ہر چیز کے آغاز، انجام کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ ہمارا توکل اور بھروسہ اپنے تمام کاموں میں صرف اسی کی ذات پاک پر ہے۔ اے اللہ! تو ہم میں اور ہماری قوم میں فیصلہ فرما۔ ہماری مدد فرما۔ تو سب حاکموں کا حاکم ہے، سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے، عادل ہے، ظالم نہیں۔

صفحہ نمبر2992