Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-A'raf 7:24

7:24
قال اهبطوا بعضكم لبعض عدو ولكم في الارض مستقر ومتاع الى حين ٢٤
قَالَ ٱهْبِطُوا۟ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّۭ ۖ وَلَكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّۭ وَمَتَـٰعٌ إِلَىٰ حِينٍۢ ٢٤
قَالَ
ٱهۡبِطُواْ
بَعۡضُكُمۡ
لِبَعۡضٍ
عَدُوّٞۖ
وَلَكُمۡ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
مُسۡتَقَرّٞ
وَمَتَٰعٌ
إِلَىٰ
حِينٖ
٢٤
(Allah) phán: “Cả ba nhà ngươi (Adam, Hauwa và Iblis) hãy (rời khỏi Thiên Đàng) đi xuống (trái đất), các ngươi sẽ là kẻ thù của nhau. Trên trái đất, các ngươi sẽ có một nơi cư ngụ và phương tiện sinh sống cho đến thời hạn ấn định.”
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 7:24 đến 7:25
سفر ارضی کے بارے میں یہودی روایات ٭٭

بعض کہتے ہیں یہ خطاب آدم، حواء، شیطان ملعون اور سانپ کو ہے -بعض سانپ کا ذکر نہیں کرتے -یہ ظاہر ہے کہ اصل مقصد آدم علیہ السلام ہیں اور شیطان ملعون۔ جیسے سورۃ طہٰ میں ہے آیت «اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيعاً» [20-طه:123] ‏ حواء آدم علیہ السلام کے تابع تھیں اور سانپ کا ذکر اگر صحت تک پہنچ جائے تو وہ ابلیس کے حکم میں آ گیا۔

مفسرین نے بہت سے اقوال ذکر کئے ہیں کہ آدم کہاں اترے؟ شیطان کہاں پھینکا گیا وغیرہ۔ لیکن دراصل ان کا مخرج بنی اسرائیل کی روایتیں ہیں اور ان کی صحت کا علم اللہ ہی کو ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس جگہ کے جان لینے سے کوئی فائدہ نہیں۔ اگر ہوتا تو ان کا بیان قرآن یا حدیث میں ضرور ہوتا۔ کہہ دیا گیا کہ اب تمہارے قرار کی جگہ زمین ہے، وہیں تم اپنی مقررہ زندگی کے دن پورے کرو گے۔ جیسے کہ ہماری پہلی کتاب لوح محفوظ میں اول سے ہی لکھا ہوا موجود ہے۔ اسی زمین پر جیو گے اور مرنے کے بعد بھی اسی میں دبائے جاؤ گے اور پھر حشر و نشر بھی اسی میں ہو گا۔ جیسے فرمان ہے «مِنْهَا خَلَقْنَـكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى» [20-طه:55] ‏ پس اولاد آدم کے جینے کی جگہ بھی یہی اور مرنے کی جگہ بھی یہی، قبریں بھی اسی میں اور قیامت کے دن اٹھیں گے بھی اسی سے، پھر بدلہ دیئے جائیں گے۔

صفحہ نمبر2879