Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-A'raf 7:185

7:185
اولم ينظروا في ملكوت السماوات والارض وما خلق الله من شيء وان عسى ان يكون قد اقترب اجلهم فباي حديث بعده يومنون ١٨٥
أَوَلَمْ يَنظُرُوا۟ فِى مَلَكُوتِ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا خَلَقَ ٱللَّهُ مِن شَىْءٍۢ وَأَنْ عَسَىٰٓ أَن يَكُونَ قَدِ ٱقْتَرَبَ أَجَلُهُمْ ۖ فَبِأَىِّ حَدِيثٍۭ بَعْدَهُۥ يُؤْمِنُونَ ١٨٥
أَوَلَمۡ
يَنظُرُواْ
فِي
مَلَكُوتِ
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضِ
وَمَا
خَلَقَ
ٱللَّهُ
مِن
شَيۡءٖ
وَأَنۡ
عَسَىٰٓ
أَن
يَكُونَ
قَدِ
ٱقۡتَرَبَ
أَجَلُهُمۡۖ
فَبِأَيِّ
حَدِيثِۭ
بَعۡدَهُۥ
يُؤۡمِنُونَ
١٨٥
Lẽ nào chúng không quan sát thấy sự thống trị trời đất và mọi thứ mà Allah đã tạo ra? Có thể tuổi thọ của họ đã sắp kết thúc. Thế còn lời nói nào ngoài (Qur’an) mà họ sẽ tin đây!
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
شیطانی چکر ٭٭

اللہ تعالیٰ جل شانہ کی اتنی بڑی وسیع بادشاہت میں سے اور زمین و آسمان کی ہر طرح کی مخلوق میں سے کسی ایک چیز نے بھی بعد از غور و فکر انہیں یہ توفیق نہ دی کہ یہ باایمان ہو جاتے؟ اور رب کو بےنظیر و بےشبہ واحد و فرد مان لیتے؟ اور جان لیتے کہ اتنی بڑی خلق کا خالق، اتنے بڑے ملک کا واحد مالک ہی عبادتوں کے لائق ہے؟ پھر یہ ایمان قبول کر لیتے اور اسی کی عبادتوں میں لگ جاتے اور شرک و کفر سے یکسو ہو جاتے؟

انہیں ڈر لگنے لگتا کہ کیا خبر ہماری موت کا وقت قریب ہی آ گیا ہو؟ ہم کفر پر ہی مر جائیں تو ابدی سزاؤں میں پڑ جائیں؟ جب انہیں اتنی نشانیوں کے دیکھ لینے کے بعد، اس قدر باتیں سمجھا دینے کے بعد بھی ایمان و یقین نہ آیا، اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آ جانے کے بعد بھی یہ راہ راست پر نہ آئے تو اب کس بات کو مانیں گے؟

مسند کی ایک حدیث میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ معراج والی رات جب میں ساتویں آسمان پر پہنچا تو میں نے دیکھا کہ گویا اوپر کی طرف بجلی کی کڑک اور کھڑکھڑاہٹ ہو رہی ہے۔ میں کچھ ایسے لوگوں کے پاس پہنچا جن کے پیٹ بڑے بڑے گھروں جتنے اونچے تھے جن میں سانپ پھر رہے تھے جو باہر سے ہی نظر آتے تھے، میں نے جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے بتایا: یہ سود خور ہیں۔ جب میں وہاں سے اترنے لگا تو آسمان اول پر آ کر میں نے دیکھا: نیچے کی جانب دھواں، غبار اور شور و غل ہے۔ میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا: یہ شیاطین ہیں جو اپنی خرمستیوں اور دھینگا مشتیوں سے لوگوں کی آنکھوں پر پردے ڈال رہے ہیں کہ وہ آسمان و زمین کی بادشاہت کی چیزوں میں غور و فکر نہ کر سکیں۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو وہ بڑے عجائبات دیکھتے۔ [مسند احمد:353/2:ضعیف] ‏

اس کے ایک راوی علی بن زید بن جدعان کی بہت سی روایات منکر ہیں۔

صفحہ نمبر3149