Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-A'raf 7:167

7:167
واذ تاذن ربك ليبعثن عليهم الى يوم القيامة من يسومهم سوء العذاب ان ربك لسريع العقاب وانه لغفور رحيم ١٦٧
وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَـٰمَةِ مَن يَسُومُهُمْ سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ ۗ إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ ٱلْعِقَابِ ۖ وَإِنَّهُۥ لَغَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ ١٦٧
وَإِذۡ
تَأَذَّنَ
رَبُّكَ
لَيَبۡعَثَنَّ
عَلَيۡهِمۡ
إِلَىٰ
يَوۡمِ
ٱلۡقِيَٰمَةِ
مَن
يَسُومُهُمۡ
سُوٓءَ
ٱلۡعَذَابِۗ
إِنَّ
رَبَّكَ
لَسَرِيعُ
ٱلۡعِقَابِ
وَإِنَّهُۥ
لَغَفُورٞ
رَّحِيمٞ
١٦٧
(Ngươi - hỡi Thiên Sứ hãy nhớ lại) khi Thượng Đế của Ngươi tuyên bố rằng Ngài chắc chắn sẽ phục sinh bọn họ vào Ngày Tận Thế, kẻ tội lỗi trong số họ sẽ bị trừng phạt nghiêm khắc. Quả thật, Thượng Đế của Ngươi rất nhanh chóng trong việc trừng phạt, song Ngài là Đấng Tha Thứ, Đấng Khoan Dung.
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
اللہ تعالٰی کی نافرمانی کا انجام ذلت و رسوائی ٭٭

اللہ تعالیٰ نے یہود کو اطلاع کر دی کہ ان کی اس سخت نافرمانی اور باربار کی بغاوت اور ہر موقعہ پر نافرمانی، رب سے سرکشی اور اللہ کے حرام کو اپنے کام میں لانے کے لئے حیلہ جوئی کر کے اسے حلال کی جامہ پوشی کا بدلہ یہ ہے کہ قیامت تک یہ دبے رہیں گے، ذلت میں رہیں گے، لوگ ان کو پست کرتے چلے جائیں گے۔ خود موسیٰ علیہ السلام نے بھی ان پر تاوان مقرر کر دیا تھا۔ سات سال یا تیرہ سال تک یہ اسے ادا کرتے رہے، سب سے پہلے خراج کا طریقہ آپ نے ہی ایجاد کیا۔ پھر ان پر یونانیوں کی حکومت ہوئی، پھر کشدانیوں اور کلدانیوں کی، پھر نصرانیوں کی۔

سب کے زمانے میں ذلیل اور حقیر رہے، ان سے جزیہ لیا جاتا رہا اور انہیں پستی سے ابھرنے کا کوئی موقعہ نہ ملا۔ پھر اسلام آیا اور اس نے بھی انہیں پست کیا، جزیہ اور خراج برابر ان سے وصول ہوتا رہا۔ غرض یہ ذلیل رہے۔ اس امت کے ہاتھوں بھی حقارت کے گڑھے میں گرے رہے۔ بالآخر یہ دجال کے ساتھ مل جائیں گے لیکن مسلمان عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جا کر پھر ان کی تخم ریزی کر دیں گے۔ جو بھی اللہ کی شریعت کی مخالفت کرتا ہے، اللہ کے فرمان کی تحقیر کرتا ہے، اللہ اسے جلد ہی سزا دے دیتا ہے۔ ہاں جو اس کی طرف رغبت و رجوع کرے، توبہ کرے، جھکے تو وہ بھی اس کے ساتھ بخشش و رحمت سے پیش آتا ہے۔ چونکہ ایمان نام ہے خوف اور امید کا، اسی لیے یہاں اور اکثر جگہ عذاب و ثواب، پکڑ دھکڑ اور بخشش، ڈراوا اور لالچ دونوں کا ایک ساتھ بیان ہوا ہے۔

صفحہ نمبر3114