Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Anbiya 21:89

21:89
وزكريا اذ نادى ربه رب لا تذرني فردا وانت خير الوارثين ٨٩
وَزَكَرِيَّآ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُۥ رَبِّ لَا تَذَرْنِى فَرْدًۭا وَأَنتَ خَيْرُ ٱلْوَٰرِثِينَ ٨٩
وَزَكَرِيَّآ
إِذۡ
نَادَىٰ
رَبَّهُۥ
رَبِّ
لَا
تَذَرۡنِي
فَرۡدٗا
وَأَنتَ
خَيۡرُ
ٱلۡوَٰرِثِينَ
٨٩
Và Zakariya, Y khẩn cầu Thượng Đế của Y: “Lạy Thượng Đế của bề tôi! Xin Ngài đừng bỏ mặc bề tôi một mình đơn độc (không con cái nối dõi) và Ngài là Đấng để lại di sản tốt nhất.”
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 21:89 đến 21:90
دعا اور بڑھاپے میں اولاد ٭٭

اللہ تعالیٰ زکریا علیہ السلام کا قصہ بیان فرماتا ہے کہ ” انہوں نے دعا کی کہ مجھے اولاد ہو جو میرے بعد نبی بنے “۔ سورۃ مریم میں اور سورۃ آل عمران میں یہ واقعہ تفصیل سے ہے۔ آپ علیہ السلام نے یہ دعا چھپا کر کی تھی، ”مجھے تنہا نہ چھوڑ“ یعنی بے اولاد۔

دعا کے بعد اللہ تعالیٰ کی ثناء کی جیسے کہ اس دعا کے لائق تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی۔ اور آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ کو جنہیں بڑھاپے تک کوئی اولاد نہ ہوئی تھی اولاد کے قابل بنا دیا۔ بعض لوگ کہتے ہیں ان کی طول زبانیں بند کردی۔ بعض کہتے ہیں کہ ان کے اخلاق کی کمی پوری کردی۔ لیکن الفاظ قرآن کے قریب پہلا معنی ہی ہے۔ یہ سب بزرگ نیکیوں کی طرف اللہ کی فرمانبرداری کی طرف بھاگ دوڑ کرنے والے تھے۔ اور لالچ اور ڈر سے اللہ سے دعائیں کرنے والے تھے اور سچے مومن رب کی باتیں ماننے والے اللہ کا خوف رکھنے والے تواضع انکساری اور عاجزی کرنے والے اللہ کے سامنے اپنی فروتنی ظاہر کرنے والے تھے۔ مروی ہے کہ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک خطبے میں فرمایا ”میں تمہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کی اور اس کی پوری ثناء و صفت بیان کرتے رہنے کی اور لالچ اور خوف سے دعائیں مانگنے کی اور دعاؤں میں خشوع وخضوع کرنے کی وصیت کرتا ہوں دیکھو اللہ عزوجل نے زکریا علیہ السلام کے گھرانے کی یہی فضیلت بیان فرمائی ہے“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔

صفحہ نمبر5510